.

یمن کے علاوہ امریکا کے بند تمام سفارتخانے اتوار کو کھل رہے ہیں

لاہور میں امریکی قونصل خانہ بھی تا اطلاع ثانی بند رہے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے کہا ہے کہ یمن کے علاوہ دہشت گردی کے خطرے کی وجہ سے بند کیے گئے تمام سفارت کھول دیے جائیں گے۔ لاہور میں قائم امریکی قونصل خانہ فی الحال بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے یہ اعلان دہشت گرد گروہ القاعدہ کی جانب سے دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کا از سرِ نو جائزہ لینے کے بعد کیا ہے۔ محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی کا کہنا ہے کہ یمن کے علاوہ پاکستان کے شہر لاہور میں قائم امریکی قونصل بھی بند رہے گا۔

ساکی نے کہا کہ بند کیے گئے 19 میں سے 18 سفارت اتوار کو کھول دیے جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا: ’’جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی جانب سے دہشت گردی کے ممکنہ حملے سمیت بدستور درپیش خطروں کے تحفظات کی وجہ سے صنعا، یمن میں ہمارا سفارت خانہ بند رہے گا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ امریکا صنعا اور لاہور میں درپیش خطرات کی نگرانی جاری رکھے گا۔ امریکا نے جمعہ کو لاہور سے اپنا سفارتی عملہ نکال لیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ’مخصوص خطرے‘ کے تناظر میں کیا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں کو بھی یہ ہدایت کی کہ وہ پاکستان کا ’غیر ضروری‘ سفر نہ کریں۔ حکام کا کہنا تھا کہ متعدد غیرملکی اور ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان بھر میں امریکی شہریوں کو خطرہ لاحق ہے۔

امریکا نے مختلف ملکوں میں اپنے سفارت خانے بند کرنے کا فیصلہ گزشتہ ویک اینڈ پر کیا تھا۔ بعدازاں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ القاعدہ کے سربراہ کا ایک خفیہ پیغام ہاتھ آنے کا بعد کیا گیا تھا۔

امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' نے پیر کو ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کا یمن میں اس دہشت گرد گروہ کے سربراہ ناصر الوحيشی کے نام ایک خفیہ پیغام سکیورٹی حکام کے ہاتھ لگا تھا۔ اس میں الظواہری نے گزشتہ اتوار کو یمن میں حملے کرنے کا حکم دیا تھا۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق سفارت خانوں کی بندش سے تقریباﹰ تمام عرب ممالک متاثر ہوئے۔ جین ساکی نے قبل ازیں منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ کہ 19 سفارت خانے ہفتے تک بند رہیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کہ وہاں عملے کے کچھ ارکان ہنگامی ضروریات کے لیے تعینات رہیں گے۔

امریکا کے ساتھ ساتھ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے یمن سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلا لیا تھا۔ امریکا نے یمن میں شدت پسندوں کے خلاف ڈرون حملے بھی تیز کر رکھے ہیں۔ ابھی جمعرات کو وہاں تین ڈرون حملوں کے نتیجےمیں 12 مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔