.

''میں اسلام کی ملک کے طور پر مخالف نہیں ہوں''

آسٹریلوی ''سارہ پالن'' اپنی جہالت کے اظہار کے بعد انتخابی دوڑ سے باہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کی غیرملکی تارکین وطن کی مخالف جماعت ''ون نیشن پارٹی'' کی ایک امیدوار کو ایک انٹرویو کے دوران مضحکہ خیز ''بونگیاں'' مارنے پر انتخابی دوڑ سے باہر ہونا پڑگیا ہے۔

آسٹریلیا کی ''سارہ پالن'' کے خطاب سے ملقب ہونے والی اس انتخابی امیدوار اسٹیفنی بینسٹر نے اسلام کو دین کے بجائے ایک ملک قرار دیا ہے۔ اس خاتون امیدوار نے آسٹریلیا کے سیون نیٹ ورک ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں اسلام کے بارے میں اپنے بلند پایہ افکار کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ''میں اسلام کی ایک ملک کے طور پر مخالف نہیں ہوں لیکن میں محسوس کرتی ہوں کہ ان کے قوانین کا یہاں آسٹریلیا میں خیرمقدم نہیں کیا جانا چاہیے''۔

بینسٹر نے جب یہ انٹرویو دیا تو اس وقت انھیں اپنی انتخابی مہم شروع کیے صرف اڑتالیس گھنٹے ہی ہوئے تھے۔ بدھ کو یہ انٹرویو نشر ہونے کے بعد میڈیا میں ایک طوفان برپا ہوگیا کیونکہ موصوفہ اسلام ہی کے بارے میں کنفیوژ نہیں تھیں بلکہ انھیں یہودیت اور عیسائیت کے بارے میں بھی واجبی سا علم تھا۔

انھوں نے یہودیت کے بارے میں کہا کہ''یہودیوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان کا اپنا ایک دین ہے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیروی کرتے ہیں''۔ اسٹیفنی بینسٹر رانکین کی نشست سے پارلیمانی انتخابات کے لیے امیدوار تھیں۔ اس انٹرویو کے نشر ہونے کے بعد وہ انتخابی دوڑ سے دستبردار ہوگئی ہیں۔

ون نیشن پارٹی کے لیڈر جیم سیویج نے اس بات کی تردید کی ہے کہ خاتون کو مقابلے سے دستبردار کرایا گیا ہے بلکہ ان کے بہ قول انھیں جماعت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''اسٹیفنی کے خاندان، ان کی ذات اور بچوں کو دھمکیوں کے بعد انھوں نے ہی خود ہی رانکین کی نشست سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے''۔

اسٹیفنی بینسٹر نے میڈیا کے ساتھ مختصر گفتگو میں انتخابی دوڑ سے باہر ہونے کی تصدیق کی ہے اور ٹی وی چینل پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے ان کا انٹرویو اس طرح ایڈٹ کیا تھا کہ جس سے وہ بیوقوف لگیں۔ سیون ٹی وی نے ان کے اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا کی ون نیشن پارٹی کی بنیاد 1997ء میں خاتون سیاست دان پالین ہانسن نے رکھی تھی۔ دائیں بازو کی یہ جماعت قدامت پرست رجحانات کی حامل ہے اور آسٹریلوی معاشرے میں کثیرالثقافت کی مخالف ہے۔ اسلام کے بارے میں اتنی بھیانک غلطی کے اظہار سے قبل ہی ہانسن نے سیون ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بینسٹر ابھی قومی سیاست کے لیے تیار نہیں ہیں۔