.

"ہوٹل کا تہہ خانہ، نماز کی مخلوط ادائِیگی کا ٹھکانہ"

اسلام کو خواہشات کے تابع نہیں کیا جا سکتا: مخالفین کا موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ سال نومبر سے سامنے آنے والے اس تصور کہ ''مردوں اور خواتین کو ایک دوسرے کے آگے پیچھے کھڑی صفوں میں باجماعت نماز پڑھائی جائے'' کے حامی افراد کے ساتھ پانچ سو لوگ ای میل پر رابطے میں ہیں۔

لندن ہوٹل میں اپنی اس سرگرمی کو زیر زمین جاری رکھنے کا اہتمام بھی ہو گیا ہے۔ جہاں گاہے گاہے عورتیں بھی امامت کراتی ہیں اور مرد ان کے پیچھے قطار میں موجود ہوتے ہیں۔ لندن کے ''کریبین ہوٹل'' کی لابی میں اس متنازعہ طریقہ نماز پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ جبکہ اس کے تہہ خانے نعیمہ نامی ایک عورت نماز پڑھاتی ہے تاہم وہ اپنا پورا نام سب کو بتانے پر تیار نہیں۔

ایک روز اس زیر زمین عبادتی مرکز میں لیلی نامی خاتون ادائی نماز کے لیے اتری تو ایک عورت جائے نماز پر امامت کے لئے کھڑی تھی جبکہ پچھلی صفوں میں عورتوں کے ساتھ مرد بھی بھر پور ذوق و شوق کے ساتھ برابر موجود تھے۔ چند ہی لمحوں میں اس غیر ہوا دار تہہ خانے سے لیلی نکلنے پر مجبور ہو گئی۔ وہ اس سب کچھ کے باعث چکرا کر رہ گئی تھی۔ لیلی کی الجھن یہ ہے کہ اسے ایسی جگہوں پر جانا چاہیے یا نہیں۔

لیلی کی سہیلی تانہ راسخ جو دو بچوں کی ماں ہے نے لیلی کی اس تہہ خانے سے واپسی پر اس کی حالت غیر دیکھی۔ اس کے بقول وہ باہر آئی تو ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ کسی بھوت کو دیکھ کر آئی ہو۔ لیلی تہہ خانے سے واپس ہوٹل کی لابی میں واپس اپنی سہیلی کے آئی تو برابر والی میز پر مخلوط نماز کے حامی مرد و خواتین کھانے میں مصروف تھے یوں اس موضوع پر بحث بھی چل نکلی۔

ان حامیوں میں سے تمثیلہ نامی ایک خاتون کو شکایت تھی کہ آج بھی اسلام پرانے طریقوں کے مطابق ہے۔ 'اس کا کہنا تھا ابھی تک اسلام پدرسری معاشروں کے ثقافتی رسم و رواج اور ان مطبوعات کے تابع ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تین سو سال بعد مرتب ہوئی ہیں۔ اس نے مزید کہا ''قرآن میں مردوں اور عورتوں کے اکٹھے نماز پڑھنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔''

لیلی اس سے متفق نہیں ہے، اس کا موقف بڑا واضح ہے کہ ''خواتین، مردوں کی موجودگی میں نماز کی امامت نہیں کرا سکتی ہیں اور نہ ہی مردوں کو عورتوں کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔'' اس کی دوست کا کہنا بھی یہی ہے کہ ''کہ اسلام کی تعبیر اپنی خواہشات کے تابع نہیں کی جا سکتی۔''

برابر میں مخلوط کے حامی مرد وزن موجود ٹیبل پر ان کی تعداد ایک درجن کے لگ بھگ افراد میں شامل فرانس سے تعلق رکھنےو الی 33 سالہ صوفیہ کے مطابق انہیں اندازہ ہے کہ عام مسلمان اسے پسند نہیں کرتے کیونکہ سب لوگ یہی جانتے ہیں کے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ نماز ادا کرنے کا حکم ہے، تاہم اب ان کی ساتھیوں نے یہ نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔

مخلوط نماز کا تصور سامنے لانے والوں کےساتھ پانچ سو کے قریب لوگ ای میل پر رابطے میں ہیں، لیکن ابھی ان کے پاس اپنی باقاعدہ مسجد کے لیے جگہ نہیں ہے۔ اس لیے وہ ابھی موبائل ہیں کبھی ادھر اور کبھی ادھر، ان کی یہ سر گرمی فی الحال زیر زمین ہی چل رہی ہے البتہ بحث بر سر زمین بھی جاری ہے۔