.

افغانستان: پکتیا میں طالبان کے حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک

اگست مِں غیرملکی فوجیوں کی ہلاکت کا پہلا واقعہ، نیٹو کا تفصیل بتانے سے گریز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیا میں طالبان مزاحمت کاروں کے حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغانستان میں امریکی فوج اور نیٹو کے تحت بین الاقوامی امدادی فورس (ایساف) نے اتوار کو ان فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ تاہم نیٹو کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ امریکی فوجی پکتیا کے کس علاقے میں اور کیسے مارے گئے ہیں۔جنگ زدہ ملک میں اس ماہ میں امریکی یا نیٹو فوجیوں کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے گذشتہ ماہ نیٹو کے تحت ایساف فورس میں شامل ایک فوجی مارا گیا تھا۔

پکتیا کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں۔ پکتیا کے علاوہ دیگر جنوبی اور مشرقی صوبوں میں امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوج بارہ سالہ جنگ کے دوران طالبان مزاحمت کاروں کا اثرورسوخ ختم کرنے میں ناکام رہی ہے اور انھیں صوبوں میں خونریز جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

امریکی فوج نے اسی سال کے آغاز میں پکتیا کا سکیورٹی کنٹرول افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا تھا جس کے بعد سے امریکی فوجی جنگی کارروائیوں میں بہت کم حصہ لیتے رہے ہیں۔ اب امریکی فوجی اس صوبے میں افغان فورسز کی تربیت کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2001ء سے افغانستان میں جاری جنگ کے دوران دو ہزار ایک سو سے زیادہ امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔

افغانستان میں اس وقت نیٹو کے تحت قریباً ایک لاکھ غیر ملکی فوجی تعینات ہیں۔ان میں اڑسٹھ ہزار کے لگ بھگ امریکی ہیں۔31 دسمبر 2014ء کو افغانستان میں نیٹو کے جنگی مشن کے خاتمے سے قبل ہی توقع ہے کہ ان فوجیوں کا انخلاء ہوجائے گا۔ البتہ امریکا جنگی مشن کے خاتمے کے بعد بھی افغانستان میں اپنے چند ہزار فوجی تعینات رکھنے پر اصرار کر رہا ہے۔