.

تیونس: النہضہ کے سربراہ یونین سربراہ سے ملاقات کریں گے

حکمراں جماعت کے سربراہ کا ملک کی بڑی ٹریڈ یونین سے بحران کے حل کے لیے رابطہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی حکمراں جماعت النہضہ کے سربراہ شیخ راشد الغنوشی سوموار کو طاقتور ٹریڈ یونین یو جی ٹی ٹی کے سربراہ سے ملاقات کریں گے اور ان سے ملک میں جاری بحران کے حل کے لیے تبادلہ خیال کریں گے۔

یو جی ٹی ٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یونین لیڈر حسین عباسی شیخ راشد الغنوشی کے علاوہ قومی دستور ساز اسمبلی کے اسپیکر مصطفیٰ بن جعفر سے ملاقات کریں گے۔اس ٹریڈ یونین کے پانچ لاکھ تیونسی اراکین ہیں اور یہ ہڑتالوں کے ذریعے ملک میں کاروبار زندگی معطل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

النہضہ اور ٹریڈ یونین کے قائدین کے درمیان ملاقات مصطفیٰ بن جعفر کی جانب سے دستور ساز اسمبلی کو معطل کیے جانے کے بعد ہورہی ہے جبکہ النہضہ کی قیادت میں حکومت اور حزب اختلاف نے بھی بحران کے خاتمے کے لیے بات چیت کی ہے۔بن جعفر نے یو جی ٹی ٹی کو مذاکرات کا ثالث بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔

تیونس کی یہ بڑی ٹریڈ یونین اسلام پسندوں کی بالادستی والی کابینہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرچکی ہے اور اس کی جگہ اس نے ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے لیکن النہضہ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

شیخ راشد الغنوشی نے ہفتے کے روز اپنے فیس بُک صفحے پر اطلاع دی تھی کہ انھوں نے ملازمین کی تنظیم یوٹیکا کے سربراہ ودد بوشماؤی سے ملاقات کی ہے۔اس تنظیم نے بھی ٹیکنو کریٹس پر مشتمل کابینہ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ تیونس میں گذشتہ ماہ حزب اختلاف کے ایک رکن اسمبلی محمد براہیمی کے قتل کے بعد سے سیاسی بحران جاری ہے اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے کارکنان دستور ساز اسمبلی کے باہر مسلسل احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔وہ اسمبلی کی تحلیل اور النہضہ کی قیادت میں حکومت کو برطرف کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

النہضہ کی حکومت پر ملک میں سخت گیر سلفیوں کو کھلی چھوٹ دینے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔انھی سلفیوں پر جولائی کے آخر میں حزب اختلاف کے رکن اسمبلی محمد براہیمی اور اس سے پہلے حکومت مخالف سیاست دان شکری بالعید کے قتل کا الزام عاید کیا گیا تھا لیکن انھوں نے اس الزام کی تردید کی ہے۔