.

غرب اردن میں یہودیوں کے 1200 مکانوں کی تعمیر کے لیے بولیاں طلب

فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے باوجود اسرائیل کا اشتعال انگیز اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس سمیت دریائے اردن کے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے قریباً ایک ہزار دوسو نئے مکانوں کی تعمیر کی غرض سے بولیاں طلب کر لی ہیں۔

اسرائیل کی وزارت تعمیرات نے اتوار کو یہ بولیاں ایسے وقت میں طلب کی ہیں جب اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں کے درمیان تین سال کے تعطل کے بعد آیندہ بدھ کو براہ راست امن مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''مقبوضہ مشرقی القدس میں سات سو ترانوے مکانوں (یونٹوں) اور مغربی کنارے میں تین سو چورانوے مکانوں کی تعمیر کے لیے آج ہی (اتوار کو) ٹینڈرز شائع کیے جارہے ہیں''۔

اسرائیل کی دائیں بازو کی جماعت جیوش ہوم پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیرتعمیرات یوری آریل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیر پر بین الاقوامی تنقید کو مسترد کردیا ہے۔ عالمی برادری ان یہودی بستیوں کو غیر قانونی اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتی چلی آرہی ہے۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیر نے ایک بیان میں کہا کہ ''دنیا کا کوئی بھی ملک دوسرے ممالک کی اس طرح کی ڈکٹیشن کو قبول نہیں کرسکتا ہے کہ اس کو کہاں تعمیرات کرنی چاہئیں اور کہاں نہیں''۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپارٹمنٹس کی مارکیٹ کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔

وزارت کے بیان کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب میں واقع دو یہودی بستیوں ہارہوما اور گیلو اور شمال میں واقع پسگیٹ زیف میں نئے مکانوں کی تعمیر کے لیے پلاٹوں کی پیش کش کی جائے گی۔

ان کے علاوہ مغربی کنارے کے شمال میں واقع یہودی بستی آریل، مشرقی القدس میں معالح اڈمیم اور بیت لحم کے آس پاس واقع عفراتا اور بیطار علیت میں مکانوں کی تعمیر کے لیے بولیاں طلب کی جائیں گی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے گذشتہ ہفتے ہی اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کار آیندہ بدھ کو مقبوضہ بیت المقدس میں براہ راست مذاکرات شروع کریں گے۔ فریقین کے درمیان گذشتہ ماہ واشنگٹن میں تین سال کے تعطل کے بعد بات چیت بحال ہوئی تھی لیکن اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر ان میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

واضح رہے کہ مغربی کنارے میں یہودی بستیاں بسانے کا عمل صہیونی ریاست اور فلسطینیوں کے درمیان امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے اور اوباما انتظامیہ کی مسلسل سفارتی کوششوں کے بعد اب دونوں فریقوں کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ بحال ہوئے ہیں لیکن اسرائِیل کی ہٹ دھرمی کے پیش نظر مستقبل میں ان مذاکرات میں کسی نمایاں پیش رفت کا امکان نظر نہیں آتا ہے۔ماضی میں ان یہودی بستیوں کی وجہ سے ہی فریقین کے درمیان براہ راست امن بات چیت تین سال تک معطل رہی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس ماضی میں مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو منجمد کرنے کا مطالبہ کرتے رہے تھے لیکن اب وہ اس مطالبے سے بڑی خاموشی دستبردار ہوگئے اور انھوں نے امریکا کے دباؤ پر اسرائیل سے براہ راست مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی۔ان کے رویے میں غیرمعمولی لچک کا جواب صہیونی ریاست نے روایتی ہٹ دھرمی سے دیا ہے اور مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے قریباً بارہ سو مکانوں کی تعمیر کا اعلان کرکے امن مذاکرات کے مستقبل کو مخدوش کردیا ہے۔

اسرائیل سے تعلق رکھنے والی یہودی آبادکاروں کی مخالف ایک تنظیم ''پیس نو'' کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت مغربی کنارے میں قائم کی گئی ایک سو اکیس یہودی بستیوں میں دولاکھ اسی ہزارسے زیادہ اسرائیلی آباد کاررہ رہے ہیں. ان کے علاوہ دو لاکھ سے زیادہ یہودی آباد کار مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں بسائے جاچکے ہیں اور ان کی آبادکاری کا عمل ہنوزجاری ہے.