.

کولمبو میں بدھ متوں کے مسجد پر حملے کے بعد کرفیو نافذ

مسلم علماء کی جانب سے واقعے کی مذمت، امریکا کا حملے پر اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں حکام نے بدھ مت بلوائیوں کے ایک مسجد پر حملے کے بعد کرفیو نافذ کردیا ہے جبکہ امریکا نے مسلمانوں کی مذہبی عبادت گاہ پر بدھ متوں کے حملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سری لنکن پولیس نے کولمبو کے علاقے گرینڈ پاس میں اتوار کو دوبارہ تیرہ گھنٹے کے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا ہے جو مقامی وقت کے مطابق شام چھے بجے شروع ہوا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق اس علاقے میں ہفتے کے روز مسجد پر حملے کے بعد آج بھی بعض افراد نے پتھراؤ کیا ہے اور وہاں امن وامان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور پیرا ملٹری دستوں کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق بدھ متوں نے گرینڈ پاس کے علاقے میں مسجد دین الاسلام کی تعمیرنو پر اعتراض کیا تھا اور انھوں نے مسجد پر نماز مغرب کے دوران دھاوا بول دیا جس سے چودہ افراد شدید زخمی ہوگئے۔ان میں مسجد کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ حکام نے زخمیوں کی تعداد صرف چار بتائی ہے۔بلوائیوں نے نمازیوں پر پتھراؤ کیا اور انھیں مارا پیٹا۔حملے میں مسجد کے نزدیک واقع مکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

درایں اثناء سرکاری عہدے داروں نے مسجد پر حملے کے بعد جاری کشیدگی ختم کرانے کے لیے مسلم سیاست دانوں سے بات چیت کی ہے۔سری لنکا کے حکمران اتحاد میں شامل مسلم وزراء کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس طرح عبادت گاہوں پر حملے کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا جس کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر امن وامان کی صورت حال خراب ہوئی ہے۔

ان وزراء نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ''یہ نعرہ کہ ہمارے معاشرے میں ایسے کچھ عناصر موجود ہیں جو کسی استثنیٰ کے بغیر کوئی بھی کارروائی کرسکتے ہیں،مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ نعرہ ہمارے معاشرے میں جڑیں پکڑرہا ہے''۔واضح رہے کہ صدر مہندا راجا پکسے کی قیادت میں حکمراں اتحاد میں سری لنکن مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت مسلم کانگریس شامل ہے۔