.

زمبابوے اور ایران کے درمیان خفیہ جوہری ڈیل کا انکشاف

ہرارے پولیس کو برطانوی اخبار کے متعلقہ رپورٹروں کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

زمبابوے پولیس ان دنوں دو ایسے صحافیوں کی تلاش میں ہے جن کے بارے زمبابوے حکومت کا خیال ہے کہ ان دونوں نے ایران اور زمبابوے کے درمیان یورینیم کی ایک مبینہ ڈیل پر مبنی سٹوری شائع کی ہے۔

برطانوی اخبار ٹائمز سے تعلق رکھنے والے ان صحافیوں، جان راتھ اور جیرومی سٹارکی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنی سٹوری میں دونوں ملکوں کی خفیہ جوہری ڈیل کو بے نقاب کیا ہے جس کے تحت آئندہ دنوں یورینیم کی برآمد ممکن ہونے جا رہی ہے۔ اس لیے دونوں مبینہ طور پر ایک من گھڑت سٹوری کی وجہ سے زمبابوے پولیس کو مطلوب ہیں۔

گذشتہ دنوں شائع ہونے والی اس سٹوری میں ایران اور زمبابوے کے تعلقات کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ '' زمبابوے کے نائب وزیر معدنیات گفٹ چمانیکائر نے لکھا ہے کہ زمبابوے نے ایران کو خام یورینیم فراہم کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جسے ایران افزودگی کے عمل سے گزار کر جوہری ہتھیار تیار کرے گا۔''

واضح رہے امریکا اور یورپی یونین نے ایرانی جوہری پروگرام کی وجہ سے ایران کے خلاف پہلے ہی اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اگرچہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اس کے باوجود مغرپی طاقتوں کو خوف ہے کہ ایران جوہری بم بنانا چاہتا ہے۔

زمبابوے بھی ان ملکوں میں شامل ہے جو مبینہ طور پر انسانی حقوق کے معاملات کے حوالے سے پابندیوں کا نشانہ ہے۔ اسی طرح زمبابوے کے صدر موگابے جنہوں حال ہی میں ایک مرتبہ پھر صدرتی انتخاب جیت لیا ہے ،ان کا یہ انتخاب بھی شفافیت کے حوالے سے متنازعہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ زمبابوے کے صدر موگابے کھلے عام ایران کے جوہری پروگرام کی حمائت کرتے ہیں۔

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد سن 2010 میں زمبابوے کا دورہ کیا تھا تو اس وقت صدر موگابے نے انہیں واشگاف الفاظ میں ایرانی جوہری پروگرام کی حمائت کا یقین دلایا تھا۔

زمبابوے کے نائب وزیر برائے معدنیات جو عالمی سطح پر ابھرنے والی اس مبینہ جوہری ڈیل کو سامنے لانے کا ذریعہ بنے ہیں خبر رساں ادارہ ان کا موقف دریافت نہیں کر سکا۔ اگرچہ سنڈے میل کے مطابق وہ برطانوی اخبار کی سٹوری کی تردید کر رہے ہیں۔ تاہم برطانوی اخبار کےایک رپورٹر سٹارکی نے اپنے ٹویٹ پیغام میں زمبابوے پولیس کی طرف سے اس کی تلاش کا ذکر کیا ہے۔

دوری جانب زمبابوے پولیس کی ترجمان چیرٹی چارامبا نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے کہ پولیس کسی صحافی کو تلاش کر رہی ہے ۔ ترجمان کا کہنا ہے ''کسی نے اس بارے میں پوچھا ضرور ہے تاہم واقعاتی اعتبارسے اس بارے میں وہ نہیں جانتیں ۔''