.

نارویجیئن وزیر اعظم کی ایک دوپہر کی ٹیکسی ڈرائیوری

عوام کی آراء جاننے کے لیے جینز اسٹولٹن برگ ٹیکسی ڈرائیور بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترقی پذیر ممالک کی طرح ترقی یافتہ ممالک کے ارباب اقتدار وسیاست کو عوام کی حمایت حاصل کرنے اور اپنی عوامی مقبولیت جاننے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں ،اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ متمدن ممالک میں سے ایک ناروے کے وزیراعظم کو ٹیکسی ڈرائیوری کرنا پڑی ہے۔

جینز اسٹولٹن برگ نے اتوار کو اس امر کا انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے عوام کی رائے اور منشاء جاننے کے لیے ایک دوپہر ٹیکسی ڈرائیوری کی تھی۔انھوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹس فیس بُک ،ٹویٹر اور یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ ''میرے لیے لوگوں سے یہ سننا اہمیت کا حامل تھا کہ وہ حقیقی طور پر کیا سوچتے ہیں۔اگر کسی جگہ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا جائے کہ وہ کیا سوچتے ہیں تو وہ جگہ ٹیکسی ہے''۔

یہ ویڈیو ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب ناروے میں 9 ستمبر کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے مہم عروج پر ہے اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اسٹولٹن برگ کے سنٹر لفٹ اتحاد کو ان انتخابات میں شکست کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ناروے کے وزیراعظم نے جون کی ایک دوپہر ٹیکسی ڈرائیور بننے کا عملی مظاہرہ کیا تھا۔انھوں نے اوسلو کی ٹیکسی وردی پہن رکھی ہے اور اس کو بیج بھی لگا ہوا ہے۔انھوں نے سیاہ رنگ کی مرسڈیز میں سواریوں کو بٹھایا تھا۔

اس ٹیکسی میں لگے ایک خفیہ کیمرے کے ذریعے مسافروں کے ردعمل کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔ان میں سے ایک مسافر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ''اس زاویے سے تو آپ حقیقی طور پر وزیراعظم لگ رہے ہیں''۔

ایک ضعیف خاتون نے بھی جینز اسٹولٹن برگ کو پہچان لیا تھا۔اس خاتون نے ان پر زوردیا کہ وہ کارپوریٹ باسز کی تنخواہوں کے بارے میں کچھ کریں۔اس خاتون نے شکایت کی کہ انھیں اس طرح لاکھوں نہیں کمانے چاہئیں۔

کیب کی عقبی نشست پر بیٹھے ووٹر تعلیم سے تیل پالیسی تک ایشوز پر تبادلہ خیال کررہے تھے۔ناروے کے وزیراعظم اس طرح عوام کی آراء سے تو آگاہ ہورہے تھے لیکن ساتھ انھیں یہ بھی اعتراف کرنا پڑا کہ انھوں نے گذشتہ آٹھ سال سے ڈرائیوری نہیں کی۔اس پر ایک نوجوان خاتون مسافر نے یہ پھبتی کسی کہ شکر ہے ،وہ زندہ ہے۔

اسٹولٹن برگ نے جب اچانک بریک دبا دیے تو ایک اور خاتون مسافر نے ان کی ڈرائیوری پر یوں تبصرہ کیا: ''گاڑی چلانے کا یہ مناسب طریقہ نہیں ہے۔میں اس ڈرائیونگ سے مطمئن نہیں ہوں''۔

جب ان سے ٹیبلائیڈ ورڈینز گینگ کے نمائندے نے سوال کیا کہ اگر وہ انتخابات میں ہار جاتے ہیں تو کیا وہ ٹیکسی ڈرائیور بننا پسند کریں گے؟اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ''میرے خیال میں اس ملک اور ناروے کے ٹیکسی مسافروں کی میرے وزیراعظم ہوتے ہوئے بہتر خدمت ہوئی ہے۔ایک ٹیکسی ڈرائیور یہ نہیں کرسکتا تھا''۔اس ٹیبلائیڈ کے مطابق ٹیکسی میں سوار مسافروں کو کرایہ نہیں ادا کرنا پڑا تھا۔

لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے اسٹولٹنبرگ کے دور حکومت میں ناروے کی معیشت نے تیل کی بدولت نمایاں ترقی کی ہے اور2008 ء میں عالمی مالیاتی بحران کے دنوں میں بھی ناروے کی معیشت پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے تھے۔

لیکن اس کے باوجود ان کی جماعت لیبر پارٹی کی حمایت میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بیان کی جارہی ہے کہ یہ جماعت 2005ء سے برسر اقتدار ہے ۔اب اس جماعت کے اقتدار کا عرصہ طویل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس سے اکتا گئے ہیں۔

اس جماعت کو 2011ء میں انتہا پسند قاتل آندرس بحرینگ برویک کے اوسلو میں دھماکے اور ایک جزیرے میں فائرنگ کے واقعے کی وجہ سے بھی کڑی تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔تشدد کے اس بدترین واقعہ میں ستتر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

سوموار کو شائع ہونے والے رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق لیبر پارٹی کی حکومت کو صرف اکتالیس فی صد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔اس کے مدمقابل قدامت پسند پارٹی اور اس کے تین اتحادیوں کو تریپن فی صد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔

اسٹولٹن برگ نے ٹیکسی پر شہر بھر میں ایک چکر لگایا تھا۔اس دوران وہ صرف ایک ووٹر کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ٹیکسی سے اترتے ہوئے بڑی عمر کے اس مسافر نے کہا کہ ''یہ ایک اچھا تجربہ ہے۔میں لیبر پارٹی کو ووٹ دوں گا''۔