.

امریکا نے بھی یہودی بستیوں کے نئے منصوبے کی مذمت کر دی

اسرائیل کا یہ فیصلہ غلط وقت پر سامنے آیا: امریکی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اسرائیل کی طرف سے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے کے فیصلے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ اسرائیل مزید یہودیوں کی آبادکاری کے لیے ایک ہزار نئے رہائشی یونٹ قائم کرنے کے لیے ٹینڈر جاری کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ یروشلم کے مشرقی حصے اور مغربی کنارے میں اپنے تعمیراتی منصوبے شروع کر سکے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امریکی کوششوں سے امن مذاکرات بدھ کے روز سے دوبارہ امریکا میں شروع ہونے والے ہیں۔ اسرائیل نے نئی یہودی بستیوں کا فیصلہ اس موقع پر فلسطینی اتھارٹی کے مذاکرات کاروں کے ردعمل کی پروا کیے بغیر کیا ہے۔

اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان شروع ہونے والے امن مذاکرات کے نتیجے میں نو ماہ کے اندر اندر کسی تصفیے پر پہنچنے کا ہدف ہے۔ ان حالات میں امریکا کی پریشانی یہ ہے کہ اسرائیل کے اس طرح کے فیصلوں سے امن مذاکرات پٹڑی سے پھر نہ اتر جائیں۔

امریکی ترجمان جین پاسکی نے اسرائیلی منصوبے پر کہا کہ '' یہودی بستیوں کی تعمیر کا یہ منصوبہ ایک ایسے نازک موقع پر سامنے آیا ہے۔ ہم اسرائیل کو اپنی سنجیدہ تشویش سے آگاہ کرنا جاری رکھیں گے''

درایں اثناء فلسطینی اتھارٹی کے ایک مذاکرات کار محمد شتائح یہودی بستیاں تعمیر کرنے کے اسرائیلی منصوبے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ثابت ہو گیا کہ اسرائیل مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر ہاوسنگ نے پوری ڈھٹائی سے اس منصوبے کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے اور امریکی ترجمان کی تنقید کو بھی مسترد کر دیا ہے۔