.

بھارت: آندھرا پردیش میں ہڑتال، متنازعہ جموں ریجن میں کرفیو

تلنگانہ ریاست کے خلاف سرکاری ملازمین کی ہڑتال، آٹھ ارکان پارلیمنٹ مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی ایک اہم ریاست آندھرا پردیش کو تقسیم کر کے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے خلاف سیاسی اور پارلیمانی سطحوں پر مخالفت اور مظاہروں نے اب بھر پور احتجاجی تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ریاستی تقسیم کے اس حکومتی فیصلے کے خلاف نصف درجن سے زائد ارکان پارلیمنٹ کے استعفوں کے بعد چار لاکھ سرکاری ملازمین غیرمعینہ مدت کے لیے منگل کے روز سے ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔

بھارتی ساحلوں سے جڑی اس ریاست کے علاوہ ہمالیائی پہاڑوں میں گھری متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے جموں ریجن میں مسلمانوں کی عید کے روز سے شروع ہونے والا ہندو مسلم تصادم مسلسل کرفیو کا سبب بن گیا ہے۔ اسی جموں ریجن سے ملحق پاکستان کی سرحد پر گزشتہ تین دنوں سے بھارتی فوج برسر عمل ہے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ کئی ماہ آندھرا پردیش کے بطن سے ایک نئی تلنگانہ ریاست کو جنم دینے کی بھارت سرکار کی کوششیں ابھی تک مزاحمتی جدوجہد کا سامنا کر رہی ہیں۔ اسی حکومتی فیصلے پر خود حکمران جماعت کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ بھی مطمئن نہیں ہیں ۔ اب تک لوک سبھا کے آ ٹھ کانگرسی ارکان بطور احتجاج استعفے دے چکے ہیں جن کی منظوری کے بارے میں لوک سبھا کی سپیکر میرا کمار کا کہنا کہ انہیں استعفے موصول ہوگئے ہیں، تاہم وہ ابھی ان استعفوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔

اسی اثناء میں میں تلنگانہ ریاست بنانے اور آندھرا پردیش کی تقسیم کے خلاف آندھرا اور سیما کے چار لاکھ سرکاری ملازمین جن میں محکمہ صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ سمیت ہر شعبے کے کارکن موجود ہیں آج منگل کے روز سے غیر معینہ ہڑتال پر چلے گئے۔ ہڑتال کی وجہ سے دونوں ہڑتالی حصوں کی سڑکوں پر چلنے والی تقریبا بارہ ہزار بسیں بند کر دی گئی ہیں۔ گڈز ٹرانسپورٹ کی سروس بھی معطل ہو گئی ہے اور عملا پوری ساحلی پٹی مفلوج ہو گئی ہے۔

ادھر مسلم اکثریتی ضلعے کشتواڑ میں عید کے موقع پر شروع ہونے والی گڑبڑ نے جموں ریجن کے چھ اضلاع کو لپیٹ میں لے لیا تو حکومت نے ان اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا جو منگل کے روز بھی جاری رہا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ان ہندو مسلم فسادات میں کم از کم تین افراد مارے جا چکے ہیں، ایک درجن سے زائد گرفتار کیے گئے ہیں۔ اس بے قابو صورت حال کے باعث ریاستی وزیر داخلہ نے بھی استعفی دے دیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اسی جموں ریجن سے ملحقہ پاکستانی اضلاع سیالکوٹ، نارووال اور شکرگڑھ بھی پچھلے تین دنوں سے وقفے سے وقفے سے ہونے والی گولہ باری سے متاثر ہیں ۔