.

بھارت: سوشل میڈیا پر مسلمان خواتین کا تصاویر پوسٹ کرنا حرام ہے

فیس بک کا تجارت یا بہتر مقاصد کے لیے استعمال جائز ہے: مفتی فرنگی محلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت سے تعلق رکھنے والے دو مفتی حضرات نے مسلمان خواتین کے اپنی تصاویر فیس بک سمیت سوشل میڈیا کے کسی بھی دوسرے آوٹ لیٹ پر پوسٹ کرنے یا اپ لوڈ کرنے کو حرام اور خلاف شریعت قرار دیا ہے۔ خواتین کے لیے جائز نہیں کہ وہ سوائے محرم رشتوں کے اپنا چہرہ کسی غیر محرم کو دکھائیں ۔

مفتی حضرات نے فیس بک کا مردوں کے لیے استعمال بھی صرف کاروبار یا دوسرے مثبت اور بہتر مقاصد کی خاطر جائز قرار دیا ہے۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے معروف اسلامی مکتبہ فکر سے وابستہ اور دینی ہیلپ لائنز پر لوگوں کے دینی امور کے بارے میں استفسارات کے جواب دینے کی شہرت رکھنے والے مفتی ابوالعرفان نعیم الحلیم فرنگی محلی کا کہنا کہ مسلمانوں کو بالعموم سوشل میڈیا سے دور رہنا چاہیے جبکہ مسلمان خواتین کو بالخصوص سوشل میڈیا سے متعلق سائتس، فیس بک اور انٹرنیٹ پر اپنی تصاویر پوسٹ نہیں کرنا چاہئِں۔ ایسا کرنا حرام اور غیر اسلامی ہے۔

مفتی فرنگی محلی کا مزید کہنا ہے: ''یہ اس لیے جائز نہیں کہ مسلمان خواتین کو اپنا چہرہ صرف اپنے والد یا بھائی اور دیگر محرم رشتہ داروں کے سامنے کھلا رکھنے کی اجازت ہے۔ ان کے علاوہ کسی کے سامنے بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

بھارت ہی سے تعلق رکھنے اور دینی امور میں عام لوگوں کی ایک دوسری ہیلپ لائن پر رہنمائی کرنے والے ایک اور عالم دین سیف عباس نقوی کے مطابق وہ لبرل سوچ کے حامل ہیں اور طالبان کا طرز فکر نہیں رکھتے۔ اس لیے جب نوجوان لڑکے ان سے سوشل میڈیا کے بارے میں پوچھتے ہیں تو وہ انہیں اس کےا ستعمال کی اجازت دیتے ہیں۔ لیکن جہاں تک مسلمان خواتین کے سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر پوسٹ کرنے کا تعلق ہے وہ اس کو جائز نہیں سمجھتے۔

مفتی فرنگی محلی نے سوشل میڈیا کے بے مقصد اور غیر مثبت استعمال کو بھی ناجائز قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ''اگر کسی نے فیس بک اکاونٹ تجارتی یا کاروباری مقاصد کے لیے بنایا ہے تو یہ جائز ہے، اسی طرح کسی اور بہتر مقصد کے لیے بھی سوشل میڈیا کا استعمال جائز ہے۔''