.

بھارت طیارہ بردار بحری جہاز تیار کر کے چین پر بازی لے گیا

این ایس وکرانت طیارہ بردار جہاز کی تیاری پر پانچ ارب امریکی ڈالر لاگت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں جنگی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے پہلے بحری جہاز کے افتتاح کے بعد ان پانچ ممالک میں شامل ہو گیا ہے جن کے پاس مقامی طور پر تیار شدہ طیارہ بردار بحری جہاز موجود ہیں۔

برطانوی اخبار 'دی ٹیلیگراف' کے مطابق این ایس وکرانت نامی طیارہ بردار بحری جہاز کا افتتاح سوموار کے روز کوچی کی بندر گاہ پر کیا گیا۔ چالیس ہزار ٹن وزنی اس بحری جہاز کی تیاری پر پانچ بلین امریکی ڈالرز کی لاگت آئی ہے۔ این ایس وکرانت سن 2018ء میں مکمل طور پر کام شروع کر دےگا۔ بھارت سے پہلے برطانیہ، فرانس، روس اور امریکا ان ممالک میں شامل ہیں، جن کے پاس طیارہ بردار بیڑے موجود ہیں۔ خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اس بحری جہاز کا افتتاح کرنے کے ساتھ ہی بھارت اس دوڑ میں چین پر سبقت لے گیا ہے۔

بھارت کے جنوبی شہر کوچی میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملکی وزیر دفاع اے کے اینٹونی کا کہنا تھا، ’’یہ ایک اہم سنگ میل ہے‘‘۔ خاکستری رنگ کے دیوقامت بیڑے کے سامنے کھڑے ہو کر کیے جانے والے اس خطاب میں ان کا مزید کہنا تھا، ’’یہ ایک طویل سفر کی جانب پہلا قدم ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک اہم قدم ہے۔‘‘

اس بحری جہاز کو پہلے ہتھیاروں اور مشینری سے لیس کیا جائے گا اور پھر اگلے چار سال تک اس کی آزمائش کی جائے گی۔ اس تجرباتی سفر کے بعد اس جہاز کو باقاعدہ طور پر بھارتی نیوی کے حوالے کر دیا جائے گا۔

یاد رہے ہفتے کے روز بھارت کی جانب سے ملکی سطح پر تیار کی جانے والی پہلی ایٹمی آبدوز کا بھی اعلان کیا گیا تھا، جو اب کھلے پانیوں میں تجرباتی سفر کے لیے تیار ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے اس آبدوز کی ملکی سطح پر تیاری کو ’’بڑی ترقی‘‘ قرار دیا تھا۔

بھارت نے مقامی سطح پر طیارہ بردار بحری جہاز تیار کر کے چین پر سبقت حاصل کر لی ہے لیکن دفاعی تجزیہ کار راہول بیدی کا اس حوالے سے کہنا ہے، ’’چین کی ایٹمی صلاحیت اور جہاز سازی کی صنعت کے اعلیٰ معیارات سے کسی طور پر بھی انکار نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اِس طیارہ بردار بحری جہاز کو بھارت کے بحری بیڑے کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔