.

قذافی دور کے مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کریں گے: وزیر داخلہ

چودہ ہزار قیدیوں نے جیلوں سے بھاگ کر قذافی مخالف انقلابیوں کی مدد کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے وزیر داخلہ محمد الشیخ نے کہا ہے کہ کرنل قذافی کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرنے والے تقریبا چودہ ہزار مفرور قیدی ملک میں امن و امان کی خرابی کا اہم سبب ہیں۔ اس لیے ان کی دوبارہ گرفتاری کی تیاری کی جا رہی ہے۔

چودہ ہزار قیدی جن میں قذافی دور میں سزائے موت پانے والے اور عمر قید کے قیدی بھی شامل ہیں۔ کرنل قذافی کے آخری دنوں میں انقلابیوں کی مدد سے اور ان کی مدد کے لیے جیلوں سے فرار کرائے گئے تھے۔

لیبیا کے سرکاری ذرائع کے مطابق یہ سب مفرور قیدی 2011 کی تحریک کے بعد سے آزاد گھوم رہے ہیں اور انہیں دوبارہ گرفتار نہیں کیا گیا، کہ انہوں نے آمرانہ قذافی دور کے خاتمے کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا، لیکن اب یہ لوگ نئی حکومت کے لیے بھی مسلہ بن گئے ہیں۔

وزیر داخلہ محمد الشیخ کے بقول وزارت داخلہ اور وزارت انصاف ان قیدیوں کو دوبارہ جیلوں میں بند کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنا رہی ہیں کیونکہ ان کا قانون کے مطابق پوری سزائیں بھگتنا ضروری ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تین ہفتوں سے کم مدت میں صرف بن غازی شہر کی جیل سے 12000 قیدی قذافی رجیم کے آخری دنوں میں فرار ہو گئے تھے۔