.

بھارتی بحریہ کی آبدوز سندھو رکشک میں دھماکا اور آتشزدگی

نیوی کے اٹھارہ اہلکار پھنس گئے، ریسکیو کی کوششیں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی بحریہ کی ایک آبدوز میں بدھ کو علی الصباح ایک دھماکے اور پھر آتشزدگی کے نتیجے میں اس آبدوز میں موجود 18 نیوی اہلکار پھنس کر رہ گئے ہیں، جنہیں نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق روسی ساختہ بھارتی آبدوز آئی این ایس سندھو رکشک میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک دھماکا ہوا اور پھر آگ بھڑک اٹھی۔ امریکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کے حوالے سے بھارتی نیوز ویب سائیٹ نے بتایا کہ فائر بریگیڈ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس آبدوز میں لگی آگ بجھا دی ہے، تاہم بھارتی بحریہ کے ترجمان پی وی ستیش کے مطابق آبدوز میں پھنسے اہلکاروں کو بحفاظت باہر نکالنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ستیش نے اس دھماکے اور آتشزدگی کی وجہ برقی شارٹ سرکٹ کو قرار دیا، تاہم کہا کہ دیگر وجوہات کی جانچ بھی کی جا رہی ہے۔ مسٹر ستیش کے مطابق، ’اس دھماکے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے، تاہم آبدوز تقریبا ڈوب گئی ہے اور برتھ کے قریب موجود اس آبدوز کا کچھ ہی حصہ دکھائی دے رہا ہے۔‘

خیال رہے کہ یہ روسی ساختہ ڈیزل الیکٹرک آبدوز 1997ء میں بھارتی بحریہ میں شامل کی گئی تھی اور گزشتہ برس مئی میں اس کی 80 ملین ڈالر کی لاگت سے اوور ہالنگ کی گئی تھی۔

وی پی ستیش نے آبدوز میں پھنسے اہلکاروں کے حوالے سے کہا، ’اس آبدوز میں کچھ افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمیں شبہ ہے کہ ان کی تعداد 18 کے لگ بھگ ہے۔ ہم اس وقت تک کوشش جاری رکھیں گے، جب تک ان افراد کو نکال نہیں لیتے۔‘

واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا ہے کہ جب بھارت نے رواں ہفتے ہی ایک طیارہ بردار جہاز کی تیاری کا عمل شروع کیا ہے، جو 2017ء میں مکمل ہو گا جب کہ اسی ہفتے بھارت نے ایک جوہری آبدوز بھی لانچ کی ہے اور اسے مکمل آپریشنل حالت میں بحریہ کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ اس آبدوز کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس میں نصب جوہری ری ایکٹر بھارت کا مقامی سطح پر تیار کردہ ہے۔