.

یہودی آباد کاروں کے لیے ''ہزاروں'' مکانات تعمیر کیے جائیں گے: اسرائیلی وزیر

اسرائیلی، فلسطینی مذاکرات کے ساتھ غرب اردن کا علاقہ ہتھیانے کی مہم جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے وزیر تعمیرات اوری آریل نے بدھ کو اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں کے درمیان امن بات چیت کے آغاز سے چندے قبل اعلان کیا ہے کہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے ہزاروں نئے مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔

انتہا پسند صہیونی وزیر نے اسرائیل کے پبلک ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یہودا اور سامراء میں آیندہ سال ہزاروں نئے مکانات تعمیر کیے جائیں گے''۔ انھوں نے غرب اردن کے لیے تورات کی قدیم اصطلاح استعمال کی ہے۔ انھوں نے کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ''کوئی ہمیں یہ ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا کہ ہمیں کہاں تعمیرات کرنی چاہئیں''۔

اوری آریل دائیں بازو کی جماعت جیوش ہوم پارٹی کے نائب سربراہ ہیں۔ یہ جماعت آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالف ہے۔ انھوں نے کہا کہ غرب اردن میں نہ صرف بڑے بلاکوں میں نئی تعمیرات کی جائیں گی بلکہ الگ تھلگ اور دور دراز یہودی بستیوں میں بھی مکانات بنائے جائیں گے۔

اسرائیلی وزیر کے اس اعلان سے قبل غرب اردن میں صہیونی ریاست کی جانب سے 2129 نئے مکانوں کی تعمیر کے فیصلوں کی اطلاع دی گئی ہے۔ ان میں سے بیشتر مقبوضہ مشرقی القدس اور اس کے آس پاس تعمیر کیے جائیں گے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت نے دائیں بازوں کے اپنے انتہا پسند اتحادیوں کو خاموش کرانے کے لیے ان ہزاروں مکانوں کی تعمیر کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ فیصلہ چھبیس فلسطینیوں کی رہائی کے بدلے کے طور پر کیا گیا ہے۔

اسرائیلی روزنامے معاریف نے اپنی منگل کی اشاعت میں لکھا ہے کہ ''نیتن یاہو فلسطینیوں سے مذاکرات کے ساتھ اضافی تعمیرات کے لیے ٹینڈرز جاری کرنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد آیندہ تین سے چار ماہ کے دوران اس وقت ٹینڈرز جاری کیے جائیں گے جب دوسرے مرحلے میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا''۔ اخبار نے اس کو ''قیدیوں کے بدلے میں مکانات'' کی پالیسی قرار دیا ہے۔

اسرائیل کی وزارت تعمیرات نے گذشتہ اتوار کو مقبوضہ بیت المقدس سمیت دریائے اردن کے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے قریباً ایک ہزار دوسو نئے مکانوں کی تعمیر کی غرض سے بولیاں طلب کی تھیں۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ''مقبوضہ مشرقی القدس میں سات سو ترانوے مکانات (یونٹس) اور مغربی کنارے میں تین سو چورانوے مکانات تعمیر کیے جائیں گے''۔

وزیر تعمیرات اوری آریل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیر پر بین الاقوامی تنقید کو مسترد کرچکے ہیں۔ عالمی برادری ان یہودی بستیوں کو غیر قانونی اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتی چلی آرہی ہے۔ ماضی میں ان یہودی بستیوں کی وجہ سے ہی فریقین کے درمیان براہ راست امن بات چیت تین سال تک معطل رہی ہے۔