مصری فوج کے ساتھ'' برائٹ سٹار'' مشقوں میں امریکی شرکت مشکوک ؟

دو سو سے زائد افراد کی ہلاکت نے سوچنے پر مجبور کر دیا، امریکی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں فوج کی طرف سے معزول کیے گئے منتخب صدر کے سینکڑوں حامیوں کی ہلاکت نے امریکا کو مصری فوج کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کے لیے مجبور کر دیا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کے سینئیر حکام کے مطابق بدھ کے روز مصر میں ہونے والی شدید خونریزی کے بعد یہ سوچنا شروع کر دیا گیا ہے کہ 1981 سے مسلسل مصری فوج کے ساتھ کی جانے والی مشترکہ فوجی مشقوں ''برائٹ سٹار"'کا حصہ بنا جائے یا نہیں۔

مصر اور امریکی افواج کی مشترکہ مشقیں کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد ہر دو سال بعد کی جاتی ہیں اور یہ مصری فوج کے امریکی قربت کا مظہر سمجھی جاتی ہیں۔ مصری فوج ان مشقوں کو ہمیشہ سے اپنی طاقت اور فخر کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ سالانہ بنیادوں پر ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر کی امریکی امداد بھی اسی کھاتے میں مصری فوج کو ملتی ہے جبکہ اڑھائی ارب ڈالر کی اقتصادی امداد اس کے علاوہ ہے۔

امریکی حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ''اس امر کا امکان ہے کہ امریکی انتظامیہ تشدد کے باعث دو سو سے زائد افراد کے مارے جانے پر سخت ردعمل کے طور پر'' برائٹ سٹار '' فوجی مشقوں میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرے۔'' اس سوال کہ امریکا نے ان مشقوں میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ اس سے پہلے کیوں نہیں کیا؟ امریکی دفتر خارجہ کے حکام کا کہنا تھا کہ'' ہر کوئی یہی توقع کر رہا تھا کہ مصر میں صورت حال بہتر ہو جائے گی۔''

ان حکام نے مصر میں بدھ کی شام سے ایک ماہ کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کو امریکی پالیسی کے لیے ایک اور دھچکا قرار دیا ہے ۔ دفتر خارجہ کے ایک اور افسر نے کہا کہ'' مصر میں کیے گئے تشدد کے بعد امریکی انتظامیہ کو مصر کی مالی امداد میں تخفیف کا سوچنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں