.

سلامتی کونسل کا اجلاس، مصر میں خونریزی بند کرنے پر زور

اجلاس برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا کےعلاوہ ترک وزیر اعظم کے مطالبے پر بلایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں خوفناک خونریزی اور تشویشناک صورتحال پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے جمعرات کو طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس میں مصر میں خونریزی کی مذمت کرتے ہوئے فریقین سے زیادہ سےزیادہ تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

سلامتی کونسل کا یہ اجلاس جمعرات کے روز برطانیہ، فرانس اور آسٹریلیا کے مطالبے پر بلایا گیا تھا۔ سلامتی کونسل کا اجلاس ایک ایسے موقع پر بلایا گیا ، جب مصری وزارت صحت نے بدھ کے روز ہونے والی 638 ہلاکتوں کو تسلیم کر لیا ہے۔ ترک وزیر اعظم طیب ایردوآن بھی اس سے پہلے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطا لبہ کر چکے تھے۔ ان کے مطابق ''یہ ان مصری عوام کا قتل عام ہے جو پر امن احتجاج کر رہے تھے۔؛؛

اجلاس کے بارے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق سلامتی کونسل نے مصر کے فریقین سے تحمل کی اپیل کی ہے۔ ذرائع کے مطابق سلامتی کونسل کے ارکان نے مصر میں تشدد کے خاتمے پر اصرار کیا ہے اور ہر ممکن تحمل و برداشت سے کام لینے کے لیے کہا ہے.

اس سے پہلے سیکرٹری'' جنرل بان کی مون'' نے مصر میں ہونے والی خونریزی کی مذمت کی تھی جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے کی سربراہ ناوی پیلے نے مصر اس قتل عام کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

سلامتی کونسل کے ارکان کو یو این او کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل جان ایلی سن نے بریفنگ دی۔ واضح رہے قاہرہ کے حالات کی غیر معمولی سنگینی کی وجہ سے امریکہ نے مصرمیں موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر مصر چھوڑنے کی ہدائت کر دی ہے۔