.

شاہ عبداللہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصر کی حمایت کر دی

''مصر کے داخلی امور میں مداخلت کرنے والا بغاوت کو ہوا دے گا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے مصر کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حمایت کا اظہار کیا ہے۔

شاہ عبداللہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ ''مصر کے استحکام کو ''منافرت پھیلانے والے''نشانہ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی مصر کے داخلی امور میں مداخلت کرے گا،وہ بغاوت کو ہوا دے گا۔

اردن کے سیاسی تجزیہ کار صالح القلاب نے العربیہ سے گفتگو میں شاہ عبداللہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''سعودی عرب مصری فوج کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔مصر میں صورت حال بہت ہی نازک ہے اور سعودی عرب نے خود کو تاریخ کی درست سمت میں کردیا ہے''۔قلاب کا کہنا تھا کہ شاہ عبداللہ نے تاریخی اقدام کرنا تھا اور انھوں نے اسلام کی درست شکل کی طرف داری کی ہے۔

مصر کے سرکاری ٹی وی کے سابق سربراہ اور کالم نویس عبداللطیف مناوی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یہ موقف مغربی ممالک کے موقف کے بعد اختیار کیا ہے جس کو(مغربی موقف کو) سمجھنا مشکل ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر مغربی لیڈر مصر میں بھی لیبیا جیسے منظرنامے کو دُہرانا چاہتے ہیں تو انھیں اس ملک میں یہ کامیابی نصیب نہیں ہوسکے گی۔

انھوں نے کہا کہ ''بہت سے مغربی مفادات مصر کے انہدام کے لیے اکٹھے ہی بروئے کار ہوئے ہیں لیکن سعودی عرب کا ایک بالکل مختلف موقف ہے اور اس میں اس بات کی تفہیم موجود ہے کہ علاقائی مفادات کہاں ہیں''۔

شاہ عبداللہ کا مصر کی حمایت میں یہ بیان متعدد مغربی ممالک اور ترکی کی مصر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے۔ترکی نے گذشتہ روز مصر میں متعین اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے طلب کر لیا تھا اور گذشتہ روز ہی مصر میں سکیورٹی فورسز کے برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف تشددآمیز کریک ڈاؤن کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی تحریک دی تھی۔

امریکا نے مصری سکیورٹی فورسز کے خونین کریک ڈاؤن میں برطرف صدر محمد مرسی کے سیکڑوں حامیوں کی ہلاکت کے ردعمل میں سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں منسوخ کردی ہیں۔اس نے مصر کو خبردار کیا ہے کہ اگر تشدد کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو مصر کے ساتھ روایتی فوجی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔

جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے فرانسیسی صدر فرانسو اولاند سے ٹیلی فون پر مصر کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا ملک مصر کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرے گا۔دونوں لیڈروں نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کریں۔