.

فلسطینی 'الکوفیہ' کا تحفہ لینا سویڈش کنگ کو مہنگا پڑ گیا

اسرائیلی میڈیا نے سویڈش بادشاہ کے خلاف آسمان سر پر اٹھا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دُنیا میں کہیں بھی فلسطینیوں سے ہمدردی یا فلسطینی کاز کی حمایت کا کوئی معمولی واقعہ بھی اسرائیلی ذرائع ابلاغ پر بجلی بن کرگرتا ہے، جس کے بعد تل ابیب کے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا میں نفرت کا ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا یہ طرز عمل آئے روز کسی ملک، عالمی رہنما یا بین الاقوامی ادارے کے خلاف جاری رہتا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کی شرانگیز مُہم کا تازہ ہدف ان دنوں سویڈن کے بادشاہ کارل گوسٹاف اور ملکہ سیلفیا بنے ہوئے ہیں جو ایک فلسطینی پناہ گزین جوڑے سے روایتی رومال 'الکوفیہ' کا تحفہ وصول کرنے کی پاداش میں شر انگیز اسرائیلی نفرت کا سامنا کر رہے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے شاہ سویڈن اور ملکہ کے خلاف صہیونی میڈیا کی شرمناک مُہم کا پردہ چاک کرنے کے ساتھ پوری کہانی بیان کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق تین سال قبل سویڈن میں پناہ حاصل کرنے والے فلسطینی سعید باسم اور اس کی اہلیہ عفاف طائیہ کو خبرملی کہ سویڈن کے بادشاہ اور ملکہ "ہراؤ سانڈ" شہر میں فلسطینی پناہ گزینوں سے ملنے آ رہے ہیں۔ فلسطینی پناہ گزین خاندان نے شاہی خاندان کے حسن سلوک کے اعتراف میں بادشاہ سلامت اور ملکہ عالیہ کی خدمت میں اپنی جانب سے ہدیہ تشکر کے طور پر کوئی تحفہ پیش کرنےکا سوچا تو ان کے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ وہ بادشاہ اور ملکہ کو فلسطین کی پہچان کی علامت ایک رومال 'الکوفیہ' بطور تحفہ پیش کریں جس پر فلسطینی پرچم اور مسجد اقصیٰ کی تصاویر پرنٹ ہوں۔

چنانچہ انہوں نے شاہی خاندان سے ملاقات میں بادشاہ اور ملکہ کو ایک فلسطینی الکوفیہ بطور تحفہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ سویڈش فرمانروا شاہ کارل گوسٹاف اور ملکہ سیلفیا نے فلسطینیوں کا تحفہ دل وجان سے قبول کیا اور دونوں نے رومال اپنے گلے میں ڈال کراس کے یادگاری فوٹو بھی بنوائے۔ بادشاہ اور ملکہ کے گلے میں ڈالے رومالوں کے ایک کونے پر"القدس ہمارا ہے" اور دوسرے پر" مسجد اقصیٰ کی تصویر کے ساتھ "تمہارا ہیکل نہیں، مسجد اقصیٰ ہماری ہے" کے الفاظ صاف طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ بادشاہ اور ملکہ کے گلو بند رومال کی تصاویر سویڈش ذرائع ابلاغ کی رونق بنیں، جس کے بعد اسرائیلی میڈیا میں سویڈش کنگ اور ان کی اہلیہ کے خلاف نفرت کا ایک طوفان بدتمیزی اُٹھ کھڑا ہوا۔

فلسطینی پناہ گزین باسم سعید نے سویڈش اخبار"سونڈس وال" کو انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے بادشاہ اور ملکہ کو محض اظہار تشکر کے طورپر رومال کا ہدیہ پیش کیا ہے۔ ان کے اس اقدام کے پس پردہ کوئی سیاسی سوچ کار فرما نہیں تھی۔ وہ فلسطینی پناہ گزینوں سے حسن سلوک اور انہیں "ہراؤ سنڈ" شہر میں پناہ دینے پر شاہی خاندان کا شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے۔ اسرائیلی میڈیا نے حسب عادت مبالغہ آرائی سے کام لے کر سویڈش کنگ اور ملکہ کو ہدف تنقید بنایا اور واقعے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعید کا کہنا تھا کہ اسے ہرگز یہ توقع نہیں تھی کہ شاہ سویڈن اور ملکہ کے گلے میں پہنے فلسطینی رومال پر صہیونی میڈیا اس قدر سیخ پا ہو گا۔ اسرائیلی سوشل اور پرنٹ میڈیا کے اظہار نفرت سے شاہ سویڈن کی ذات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھیں گے، تاہم اس مہم نے صہیونی میڈیا کی اعتدال پسندی کا پول کھول دیا ہے۔

خیال رہے کہ شاہ سویڈن کارل گوسٹاف مسئلہ فلسطین کے پرامن حل کے پر زور حامی اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے سخت ناقد کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ہر فورم پر فلسطینیوں کے دیرینہ حقوق کی دو ٹوک حمایت کی اور سویڈن کے شہر"ہراؤسانڈ" میں مقیم فلسطینی مہاجرین کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا جس پر اسرائیلی لیڈرشپ کئی بار دانت پسیج کر رہ گئی۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی "وفاء" نے بھی اس واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ایک فلسطینی پناہ گزین خاندان نے سویڈش بادشاہ اور ملکہ سے ملاقات میں انہیں فلسطینی شال تحفے میں پیش کی تھی جو انہوں نے ایک بھری محفل میں اوڑھ کرسب کو دکھائی تھی۔ تاہم "وفاء" نے خبر پر اسرائیلی میڈیا کے ردعمل کا کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے، البتہ شاہ سویڈن کے مسئلہ فلسطین کی حمایت پر مبنی موقف کو سراہا ہے۔

سویڈش اخبار کے مطابق اسرائیل کی حامی ایک تنظیم "سویڈش الائنس برائے اسرائیل" کی ایک خاتون رُکن لیزا ابراھا موفیٹچ کا کہنا ہے کہ انہیں اعتراض اس بات پر نہیں کہ بادشاہ نے فلسطینی رومال کا تحفہ کیوں قبول کیا بلکہ اعتراض اس بات پر ہے کہ بادشاہ اور ملکہ نے رومال اپنے گلے میں ڈال کراس کی نمائش کیوں کی؟ اس نمائش سے اسرائیلیوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ شاہ سویڈن کے مشیروں کو چاہیے تھا کہ وہ رومال پر لکھے الفاظ اور ان پر ممکنہ ردعمل پرغور کرتے اور بادشاہ کو اس کے بارے میں آگاہ کرتے۔

شاہی دفتر کے ترجمان پارٹیل ٹیرنرٹ سے جب واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ "تحائف دینا اور قبول کرنا بادشاہوں اور حکمرانوں کا معمول ہوتا ہے۔ شاہ سویڈن نے فلسطینی خاندان سے رومال کا ہدیہ وصول کرکے کوئی قابل اعتراض کام نہیں کیا ہے۔ بادشاہ کوعوام وخواص کی جانب سے پھولوں سمیت طرح طرح کے تحائف پیش کیے جاتے رہتے ہیں۔ کئی کمپنیاں اور ادارے اپنے مخصوص ناموں اور سلوگن کے ساتھ تحائف پیش کرتے ہیں اور کسی کواس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ فلسطینی خاندان سے تحفے میں ملنے والا رومال بادشاہ اور ملکہ نے اپنے گلے میں ڈالا پھر اتار دیا۔

باسم سعید کا کہنا ہے کہ جب ہم سویڈش بادشاہ اورملکہ سے ملے تو ہم نے انہیں رومال پیش کیے۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو میں نے بتایا کہ یہ ایک شال ہے جس پر میرے وطن کا پرچم پرنٹ ہے۔ آپ اسے اپنے گلے میں ڈالیے۔ بادشاہ اور ملکہ نے رومال اپنے اپنے گلے میں ڈالے اور مسکرا کر تصاویر اتروائیں، پھر اتار دیے۔