.

مصر میں ترک ڈرامہ سیریل 'عشق ممنوع' پر پابندی لگانے کا مطالبہ

فوجی بغاوت اور قاہرہ میں قتل عام پر انقرہ کے احتجاج کا جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف فوجی کریک ڈاؤن پرعالمی تنقید قاہرہ کی فوج نواز عبوری حکومت کے لیے سوہان روح بنی ہوئی ہے۔ ادھر بزعم خود لبرل اور اعتدال پسند فنکاروں نے عالمی تنقید پر جوابی حملے شروع کر دیے ہیں۔

مقتدر مصری سیاست دانوں اور فنکاروں کی تنقید کا آسان ہدف ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن ہیں، جنہوں نے مصر میں جاری خون خرابہ روکنے کے لیے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلوایا۔ مصری فنکاروں کو بھی ایردوآن کا یہ اقدام ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہوا، جس کے ردعمل میں انہوں نے ملک کے تمام ٹیلی ویژن چینلز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشہور ترک ڈرامہ سیریز"عشق ممنوع" کی بقیہ قسطیں نشر کرنے سے باز رہیں۔ اس ڈرامہ سیریل کو ترکی سے عربی زبان میں ڈبنگ کے بعد متعدد ٹی وی چینلز قسط وار پیش کر رہے ہیں۔

ترک ڈرامہ سیریز کا بقیہ حصہ نشر کرنے سے روکنے کے لیے مصری فنکاروں کا تخلیقی فورم اور کئی نامور فلم ساز پیش پیش ہیں۔ مصری فلم پروڈیوسر ڈاکٹر محمد العدل نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے دیگر فنکار اور فلم ساز ساتھیوں سے ترک ڈرامہ کی نشریات روکنے کے لیے صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔ ملک کے تمام ٹی وی چینلوں کے مالکان سے ہمارا پر زور مطالبہ ہے کہ وہ ترک ڈرامے کی مزید قسطین فوری طور پر روک دیں"۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر العدل نے براہ راست ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ "مصری ٹیلی ویژن چینلوں کے لیے یہ بات بھی ہرگز مناسب نہیں کہ وہ ایردوآن کے دھمکی آمیز بیانات کو نشر کریں۔ جن میں وہ عالمی برادری کو مصر میں مداخلت پر اکسا رہے ہیں۔ ترک وزیراعظم کے اس متنازعہ بیان کے بعد تمام ٹی وی چینلوں کوایک مضبوط اور متحد موقف اختیار کرنا چاہیے تا کہ مصری قوم کی عظمت پرکوئی حرف بھی نہ آئے اور مخالفین کو منہ کی کھانا پڑے"۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں مصری فلم پروڈیوسر کا کہنا تھا کہ فی الحال ان کے مطالبے پر کسی ٹی وی چینل نے حامی نہیں بھری ہے لیکن وہ اپنا مطالبہ بار بار دہرائیں گے، کیونکہ یہ ملک کی عزت اور اس کی حرمت کا سوال ہے۔

مصرکے ایک دوسرے فنکار عزت العلائلی نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ"سے بات کرتے ہوئے پروڈیوسر ڈاکٹر العدلی کے موقف کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ترک ڈرامے کے حوالے سے جو موقف اختیار کیا جائے گا وہ اس کی حمایت کریں گے۔ العلائلی نے بھی ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کے مصر بارے موقف کو مایوس کن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فنون لطیفہ اور ادب ہمیشہ معاشروں کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے میں مدد کرتے ہیں لیکن جب دوسرے ملک کی حکومت ہم سے دشمنی کا مظاہرہ کرے اور ہمارے اوپر اپنی ثقافت کو جبرا مسلط کرنا چاہے تو ہمیں بھی اس کے خلاف جوابی اقدام کا حق ہونا چاہیے۔

مصری فنکار نے ترک ڈرامہ"عشق ممنوع" پر فنی پہلوؤں سے بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترک ڈرامہ سیریز کا تخیل نہایت سطحی ہے جس میں آشنا سے محبت اور رومانس کے سوا کچھ نہیں۔ اس طرح کے ڈراموں سے مصری معاشرے میں انتشار پھیلانے کا اندیشہ ہے۔ ترک فلم انڈسٹری اس سے بدرجہا بہتر ڈرامے تیار کر رہی ہے۔

اس سوال پر کہ آیا سابق وزیر اطلاعات صلاح عبدالمقصود نے ترکی کے ساتھ ایک ثقافتی معاہدے کے تحت ترک ڈرامہ نشر کرنے کی اجازت دی تھی۔ العلائلی نے کہا کہ سابق وزیر ثقافتی سرگرمیوں کا کچھ بھی پتہ نہیں تھا۔ وہ اس ایک ڈرامے کی نشریات کو اپنی کامیابی قرار دے رہے تھے۔