.

تیونس: تقریب کے دوران وزیر ثقافت پر فلم آرٹسٹ کا حملہ

سیاسی کشیدگی کے ماحول میں وزیر پر تشدد کا پہلا واقعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے ایک فلمی آرٹسسٹ نے وزیر ثقافت اور امور نوجواناں مہدی مبروک پر حملہ کر کے انہیں شدید زخمی کر دیا. زخمی وزیر کو سر پر لگائی جانے والی شدید ضرب کے باعث مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے.

یاد رہے عوامی تحریک کے نتیجے میں معزول ہونے والے صدر زین العابدین کے ملک سے فرار کے بعد برسراقتدار آنے والی اسلام پسند جماعت 'النہضہ' کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے حالیہ کوششوں کے جلو میں کسی حکومتی وزیر پر یہ پہلا حملہ ہے. فوری طور پر نصر الدین السہیلی نامی فنکار کے اس انتہائی اقدام کا محرک معلوم نہیں ہو سکا.

مضروب وزیر نے 'شمس ایف ایم' نامی مقامی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نصر الدین السہیلی نے ان پر اس وقت حملہ کیا جب وہ دارلحکومت تیونس کے کلچرل سینٹر میں ایک اور فنکار کی وفات کے سلسلے میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کر رہے ہیں.

دیگر ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق نصر الدین سہیلی نے سرعام وزیر ثقافت کے سر پر مکوں سے اس وقت حملہ کیا جب وہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ فلمی اداکار کا حملہ اس قدر سخت اور اچانک تھا کہ وزیر موصوف کو سنھبلنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ انہیں وہاں پر موجود دوسرے لوگوں نے ایمبولینس میں ڈال کر"شارل نیکول" اسپتال منتقل کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نصر الدین سہیلی نے وزیرکو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ان پر انڈے بھی پھینکے اور ان کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

خیال رہے کہ وزیرموصوف مہدی مبروک اکتوبر2011ء میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ بعد ازاں انہیں اسلام پسند جماعت "النہضہ" کی قیادت میں بننے والی حکومت میں وزارت ثقافت کا قلم دان سونپا گیا تھا۔ مہدی مبروک اور تیونس کے فنکاروں کے درمیان پہلے بھی چشمک چلتی رہی ہے تاہم ان پر کسی آرٹسٹ کا براہ راست حملہ سنہ 2011ء کے انقلاب کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔