.

"ایران، حزب اللہ شکست خوردہ بشار کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں"

شامی سر زمین پر عربوں کی جنگ لڑی جا رہی ہے: احمد الجربا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن کے نمائندہ متحدہ قومی محاذ [ایس این سی] کےچیئرمین احمد عاصی الجربا نے کہا ہے کہ اسلحہ ملتا رہے تو جیش الحر القصیرسمیت ملک کے بڑے شہروں پر چند دنوں میں کنٹرول حاصل کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل جنگ کے باعث بشارالاسد کی فوج شکست کے دہانے پر ہے لیکن ایرانی پاسداران انقلاب اور حزب اللہ انہیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لندن سے شائع ہونے والے عربی اخبار "الحیاۃ" کو ایک تفصیلی انٹرویو میں احمد الجربا نے ملک کی موجودہ صورت حال، سیاسی اور جنگی محاذ پر پیش رفت سمیت تمام امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دارالحکومت دمشق، اللاذقیہ، حلب، حماہ اور ادلب جیسے بڑے شہروں کے بیشتر حصوں پر باغیوں کا کنٹرول مضبوط ہے اور وہ تیزی کے ساتھ محاذ جنگ پر پیش کر رہے ہیں۔

بشار الاسد شکست خوردہ ہوچکے ہیں۔ باغیوں کا اصل مقابلہ ایرانی پاسداران انقلاب، لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے قاتلوں اور ایران کے ایماء پر باغیوں سے لڑنے والے عراقی اور یمن کے حوثی جنگجوؤں کے ساتھ ہے۔ یہ سب مل کر بشار الاسد کی حکومت بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ حزب اللہ کے امیر حسن نصراللہ نے علانیہ کہا ہے کہ وہ بہ نفس نفیس شام کی جنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ حسن نصراللہ کا یہ بیان محض دھمکی نہیں بلکہ شام میں کھلی مداخلت کا چیلنج ہے۔

بشارالاسد جنگی مجرم

شام کے بحران کے حل کے لیے مستقبل میں کسی سیاسی نقشہ راہ کے سوال پر بات کرتے ہوئے قومی محاذ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ "مسئلے کےسیاسی حل کے لیےکوششیں ہو رہی ہیں، لیکن اپوزیشن ایسے کسی فارمولے کو تسلیم نہیں کرے گی جس میں بشارالاسد اور ان کے حاشیہ نشینوں کا کوئی کردار شامل ہو"۔

احمد الجربا کا کہنا تھا کہ بشارالاسد اور ان کی حمایت کرنے والے عسکری اور سیاسی رہ نما جنگی جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ہم عالمی برادری سے بشارالاسد کو جنگی جرائم کے تحت سزا دلوانے کا مطالبہ بار بار کریں گے۔ جو قوتیں مظلوم شامی عوام کی خدمت کرنا چاہتی ہیں، وہ صرف بشارالاسد کی اقتدار سے رخصتی پر بات کریں"۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں احمد الجربا کا کہنا تھا کہ باغیوں کو جدید اسلحہ اور طاقت کا توازن تبدیل کرنے والے ہتھیار میسر ہوں تو دنوں میں جنگ کا پانسہ پلٹا جا سکتا ہے۔ انہوں نے باغی فوج کے متنازعہ کمانڈر مناف طلاس کو جیش الحر کا کمانڈر ان چیف بنائے جانے کی خبروں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ہم مناف طلاس کے شکر گذار ہیں کہ انہوں نے بشارالاسد کے نہایت قریب ہوتے ہوئے بھی انہیں خیرباد کہا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انہیں جیش الحر کا سربراہ مقرر کیا جائے۔

تفصیلی انٹرویو میں احمد الجربا نے بشارالاسد کی حمایت کرنے والے ملکوں کو بھی خوب لتاڑا۔ انہوں نے عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے کردار کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ المالکی ایران کے اشارے پر بشارالاسد کی افرادی قوت سے مدد کر رہے ہیں۔

خلیجی ممالک سے تعاون کی اپیل

شامی قومی اتحاد کے سربراہ احمد الجربا نے باغیوں کی مدد کرنے والے ملکوں کا شکریہ ادا کیا اورخاص طورپر خلیجی ممالک سے جنگ میں مزید مدد کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ جیش الحر شام کی سرزمین پرعربوں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ خلیجی ممالک بھی شام کی جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر بھرپور امداد فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کی طرف سے باغیوں کوتھوڑی بہت امداد مل رہی ہے لیکن اسے کافی نہیں قرار دیا جاسکتا۔

رمضان المبارک سے قبل ہمارے ساتھ امداد کے کئی وعدے کیے گئے تھے۔ اب عید بھی گذر چکی ہے اور ہم وعدوں کے ایفاء کے منتظر ہیں۔ ہمیں اپنے مظلوم بھائیوں کو جلد یہ پیغام دینا ہے کہ ان کے عرب بھائی خاموش تماشائی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔

احمد الجربا نے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اور خلیج تعاون کونسل کی سرکردہ قیادت پر زور دیا کہ وہ مسئلہ شام کے بارے میں اپنی ذمہ داریاں پوریں کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فتح تمام عرب دنیا کی فتح ہوگی لیکن اس کے لیے ہمیں بڑے پیمانے پر جنگی سازو سامان سمیت ہرطرح کی امداد کی ضرورت ہے۔

دس لاکھ پناہ گزیں

احمد الجربا نے شام میں بغاوت کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی مدد کے لیے بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پڑوسی ملکوں اردن، ترکی اور لبنان ہجرت کرنے والے شہریوں کی تعداد ایک ملین سے تجاوز کرچکی ہے۔ اندرون ملک بھی لاکھوں افراد گھر بارچھوڑ کرمحفوظ مقامات پر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ان میں دمشق اور حمص سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد "حواران" شہر میں پناہ گزین ہیں لیکن انہیں وہاں بھی تحفظ حاصل نہیں کیونکہ حواران میں بھی سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی جا رہی ہے۔

احمد الجربا نے تسلیم کیا کہ ایران، حزب اللہ، اور یمن کے حوثی جنگجوؤں کی آمد سے ملک کی صورت حال نہایت پیچیدہ ہوچکی ہے۔ باغیوں کو بشارالاسد کے وفاداروں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے، تاہم انقلاب کی تحریک اب تھمنے والی نہیں۔ ہم ہی فتح مند ہوں گے اور تحریک کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا کر چھوڑیں گے۔