.

مظاہرین قتل کیس، حسنی مبارک عدالت سے غیر حاضر

مبارک کے شریک ملزم وزیر داخلہ اور بیٹَے بھِی عدالت میں نہ آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق مصری آمر حسنی مبارک مظاہرین قتل سازش کیس میں عدالت میں پیش نہ کیے گئے۔ حسنی مبارک کے دورکے وزیر داخلہ حبیب العدلی اور کرپشن سے متعلق مقدمات میں ماخوذ حسنی مبارک کے بیٹے اعلی اور جمال بھی ہفتے کےروز عدالت میں حاضر نہ ہوئے۔ متعلقہ حکام نے عدالت میں پیش نہ کرنے کی وجہ امن امان کی صورتحال بتائی گئی ہے کہ بدھ کے روزسے اب تک بڑی تعداد میں مارے گئے مظاہرین اور جاری احتجاج اس کی وجہ بنے ہیں۔

جب سے حسنی مبارک گرفتار ہو کر مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، یہ پہلا موقع ہے کہ انہیں متعلقہ حکام نے عدالت میں طلب کیے جانے کے باوجود پیش نہیں کیا ہے۔ واضح رہے مرسی کی بر طرفی کے بعد ایک عدالتی سماعت میں حسنی مبارک کو لمبی تاریخ کے تحت 17 اگست کو طلب کیا تھا۔ عدالت نے حسنی مبارک کی عدم پیشی پر سماعت 25 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔

پچاسی سالہ حسنی مبارک قاہرہ کے جنوب میں قائم تورا جیل میں رکھا گیا ہے۔ حسنی مبارک اور ان کے وزیر داخلہ حبیب العدلی کو 2011 کی عوامی تحریک کے دوران مظاہرین کی ہلاکتیں روکنے میں ناکام رہنے کے جرم میں عدالت نے گزشتہ سال جون میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ااں عدالت نے ماہ جنوری میں دونوں کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے از سر نو مقدمے کی سماعت کا حکم دیا تھا۔

مصر میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد سابق آمرمبارک کی عدالت میں یہ پہلی تاریخ تھی۔ اب عدالت نے انہیں 25 اگست کو دوبارہ طلب کیا ہے۔