.

''عرب دنیا میں مغربی سفارت کاروں پر حملے کیے جائیں''

القاعدہ کے امریکی جنگجو کا لیبیا میں امریکی سفیر کے قاتلوں کو خراج تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے ایک امریکی جنگجو نے عرب دنیا میں مغربی سفارت کاروں پر مزید حملوں پر زور دیا ہے اور 11ستمبر2012ء کو لیبیا میں متعین امریکی سفیر کو قتل کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

واشنگٹن میں قائم سائٹ مانیٹرنگ گروپ نے القاعدہ کے امریکی نژاد جنگجو آدم جدعان کا یہ بیان نقل کیا ہے۔ سائٹ کے مطابق آدم جدعان نے انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی انتالیس منٹ کی ویڈیو میں دولت مند مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خطے میں مغربی سفیروں کو قتل کرنے والے جنگجوؤں کے لیے انعامات کا اعلان کریں۔ اس ضمن میں انھوں نے یمن میں متعین امریکی سفیر کے سر کی قیمت کا حوالہ دیا ہے۔

عربی زبان میں اس ویڈیو میں انھوں نے کہا کہ ''یہ انعامات ہمارے بزدل دشمنوں کے دلوں میں خوف پیدا کرنے میں بڑے اثرات مرتب کریں گے اور یہ انعامات متردد افراد کی اللہ کی راہ میں نیک کام کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کریں گے''۔ امریکا نے القاعدہ کے اس جنگجو کے سر کی قیمت دس لاکھ ڈالرز مقرر کررکھی ہے۔

واضح رہے کہ یمن میں بروئے کار القاعدہ کی شاخ نے گذشتہ سال صنعا میں متعین امریکی سفیر کے سر کی قیمت تین کلو گرام سونا اور ایک امریکی فوجی کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ریال (23350 ڈالرز) مقرر کی تھی۔

قبل ازیں 11 ستمبر 2012ء کو لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے کے دوران مشتعل افراد نے طرابلس میں متعین امریکی سفیر کرسٹوفر اسٹیونز سمیت چار اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔

آدم جدعان قبل ازیں بھی امریکی سفارت کاروں پر حملوں کے بیانات جاری کرچکے ہیں۔ اگست 2007ء میں انھوں نے کہا تھا کہ القاعدہ عراق اور افغانستان میں امریکا کے فوجی حملوں کے ردعمل میں مغربی سفارت کاروں اور سفارت خانوں کو نشانہ بنائے گی۔

امریکا کا وفاقی ادارہ تحقیقات ایف بی آئی آدم جدعان کو زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کرچکا ہے۔ وہ کیلی فورنیا میں پیدا ہوئے تھے اور بعد میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔

ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 2004ء کے بعد سے پاکستان میں کہیں روپوش ہیں۔ امریکا نے ان کی گرفتاری میں معاونت کرنے یا معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے دس لاکھ ڈالرز نقد انعام کا اعلان کررکھا ہے۔