فیس بُک کے بانی کا صفحہ ہیک کرنے والا فلسطینی انعام سے محروم

''آپ کی پرائیویسی میں مداخلت پر معذرت خواہ ہوں'': ذکربرگ کے صفحے پر پوسٹ کی گئی تحریر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

''آپ کی پرائیویسی میں مداخلت پرمعذرت خواہ ہوں''۔ یہ وہ الفاظ تھے جو ایک فلسطینی نے فیس بُک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک ذکربرگ کے صفحے کو ہیک کرنے کے بعد تحریر کردیے تھے مگر اس کے باوجود وہ انعام سے محروم ٹھہرا ہے۔

فلسطینی نوجوان خلیل شریطہ نے اسی ماہ یہ کارنامہ انجام دیا تھا لیکن اس سے فیس بُک کے بانی کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ البتہ شریطہ کے بہ قول وہ اپنے اس کارنامے کا سوشل نیٹ ورک کی اس ویب سائٹ کو احساس دلانا چاہتا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے فیس بُک کی سائٹ میں ایک خامی کا پتا چلایا تھا جس سے کوئی بھی شخص کسی نامعلوم شخص کی وال پر کوئِی تحریر پوسٹ کرسکتا ہے۔ فیس بُک میں کسی بھی خامی کی نشاندہی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور وہ کسی خامی کا پتا چلائیں تو انھیں پانچ سو ڈالرز تک انعام سے نوازا جاتا ہے۔

شریطہ کی پہلی زبان عربی ہے۔ انھوں نے فیس بُک پر یہ تحریر پوسٹ کی تھی:''میرانام خلیل شریطہ ہے۔ میں نے انفارمیشن سسٹمز میں بی اے کی ڈگری حاصل کی ہے۔ میں آپ کی مین سائٹ میں ایک بگ (خامی) کی رپورٹ کرنا چاہتا ہوں جس کا میں نے پتا چلایا ہے۔ اس بگ کے ذریعے فیس بُک کے صارفین لنکس کو فیس بُک کے دوسرے صارفین کے ساتھ شئیر کرسکتے ہیں۔ میں نے اس کا سارہ گڈان کی وال پر تجربہ کیا ہے اور وہاں کامیابی سے پوسٹ کیا ہے''۔

انھوں نے جب یہ کیس فیس بُک کو رپورٹ کیا تو اس کی ٹیکنیکل ٹیم کی جانب سے یہ جواب آیا کہ ''یہ بگ نہیں ہے''۔ ڈیلی میل نے اپنی اتوار کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ''شریطہ نے خامی کی نشاندہی کے لیے جو طریق کار اختیار کیا تھا، اس پر فیس بُک نے انھیں انعام دینے سے انکار کردیا ہے حالانکہ سائٹ کی سکیورٹی میں اسقام کی نشاندہی کرنے والوں کو انعامات دیے جاتے ہیں''۔

فلسطینی نوجوان نے فیس بُک کے انکار پر ہمت نہیں ہاری اور انھوں نے اس خامی کو ذکربرگ کا فیس بُک صفحہ ہیک کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ انھوں نے پہلے اس کا تجربہ فیس بُک کے ایک دوست کی وال پر لکھنے سے کیا۔

انھوں نے فیس بُک کے بانی کے صفحے پر لکھا:''آپ کی پرائیویسی میں مداخلت کی معذرت۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ فیس بُک کی ٹیم کو جورپورٹس میں نے بھیجیں، ان کے ردعمل میں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا''۔

اس پر فیس بُک نے فوری طور پر فلسطینی نوجوان سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ انھوں نے ذکربرگ کا صفحہ کیوں ہیک کیا ہے؟ فیس بُک کی سکیورٹی ٹیم کے میٹ جونز نے ہفتے کے روز ہیکر نیوز پر لکھا کہ ''ہم نے جمعرات کو اس غلطی کو درست کردیا ہے''۔

مسٹر جونز نے خلیل شریطہ کے اس کارنامے کو تسلیم کرنے کے بجائے لکھا کہ انھوں نے ذکربرگ اور گڈ ان کے اکاؤنٹس پر پوسٹ کرکے سروس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس لیے انھیں کوئی انعام نہیں دیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ''انعام کا حق دار بننے کے لیے ضروری ہے کہ آپ پرائیویسی کی خلاف ورزی سے بچیں اور بگز کی تحقیق کے دوران کسی حقیقی اکاؤنٹ کے بجائے ایک آزمائشی اکاؤنٹ کو استعمال کریں''۔ یہ ہدایات جاری کرنے کے بعد خلیل شریطہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مستقبل میں ان کے مطابق خامیوں کی نشاندہی کریں تو انھیں انعام سے نوازا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں