.

اوباما انتظامیہ نے مصر کی فوجی امداد عارضی طور پر معطل کر دی: رپورٹ

اوباما انتظامیہ مصر میں جمہوریت کی بحالی سے امداد کو مشروط کرے: سینیٹرز کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک امریکی سینیٹر کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے مصر میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران تشدد کے خونریز واقعات کے بعد اس کی فوجی امداد عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔

سینیٹر پیٹرک لیہہ نے ڈیلی بیسٹ کو بتایا کہ ''یہ میری تفہیم ہے کہ قانونی تقاضے کے تحت مصر کے لیے فوجی امداد بند کردی گئی ہے''۔

اس اخبار کی رپورٹ کے مطابق ''اوباما انتظامیہ نے مصر کی براہ راست فوجی امداد، مصری فوج کو ہتھیاروں کو فراہمی اور مصری حکومت کے لیے اقتصادی امداد کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے اور وہ اس ملک کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لے گی''۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ''مصری فوج کے لیے 2013ء میں موعودہ ساڑھے اٹھاون کروڑ ڈالرز کی امدادی رقم نہیں روکی گئی کیونکہ یہ رقم ٹیکنیکل طور پر 30 ستمبر کو امریکا کے مالی سال کے اختتام سے قبل قابل ادا نہیں ہے''۔

امریکی سینیٹر اور سابق شکست خوردہ صدارتی امیدوار جان مکین نے اوباما انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ مصر کو دی جانے والی سالانہ ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز کی فوجی امداد معطل کر دے۔

انھوں نے فاکس نیوز کے ساتھ اتوار کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ''ہمارے لیے بیٹھے رہنا اور مصر میں جو کچھ رونما ہورہا ہے،اس پر ہماری خاموشی اس سب کچھ کی خلاف ورزی ہے جس کی ہم باتیں کرتے ہیں''۔

ری پبلکن پارٹی کے ایک اور سینیٹر رینڈ پال نے بھی مصرکی فوجی امداد منقطع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مصری اپنے ملک کی شاہراہوں پر امریکی ٹینکوں کو دیکھیں گے تو میرا نہیں خیال کہ ہم اس طرح ان کی کوئی حمایت خرید رہے ہیں۔

حکمراں ڈیمو کریٹک پارٹی کے سینیٹر رچرڈ بلیومینتھال کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ کو مصر میں قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی بحالی سے مستقبل کی امداد کو مشروط کرنا چاہیے۔ انھوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ''ہمیں تمام امداد نہیں روکنی چاہیے۔ یہاں دو میں سے کوئی اچھا انتخاب نہیں ہے۔ اگر ہم مصری فوج کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو پھر امریکی مفادات کے تحفظ کی ضرورت ہے''۔

امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ ہفتے مصری فوج کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں منسوخ کر دی تھیں، تاہم ابھی تک انھوں نے مصر کی فوجی امداد معطل نہیں کی ہے۔ واشنگٹن نے 3 جولائی کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کو فوجی بغاوت قرار نہیں دیا ہے اور یہ اقدام امریکا کی جانب سے مصر کی فوجی امداد کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔