.

تیونس کی امینہ سبوئی نے اخلاق باختہ ''فیمین'' تحریک کو خیرباد کہہ دیا

خواتین کے حقوق کی علمبردار تنظیم پر اسلام مخالف ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انٹرنیٹ پر عریاں تصاویر پوسٹ کرکے 'عالمگیر شہرت' حاصل کرنے والے تیونسی خاتون امینہ سبوئی نے خواتین کے حقوق کی علمبردار اخلاق باختہ تنظیم فیمین کو چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے اور اس پر اسلام مخالف ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

امینہ سبوئی نے ہفنگٹن پوسٹ کے مغرب ایڈیشن کے ساتھ انٹرویو میں ''فیمین'' کے ساتھ اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''میں کسی اسلام مخالف تنظیم کے ساتھ وابستہ نہیں رہنا چاہتی ہوں''۔

انھوں نے پیرس میں تیونس کے سفارت خانے کے باہر ''فیمین اکبر'' اور ''امینہ اکبر'' کے نعرے لگانے والی لڑکیوں کے فعل پر بھی اظہار ناپسندیدگی کیا ہے اور کہا ہے کہ ''میں نے اس حرکت کی تحسین نہیں کی ہے''۔واضح رہے کہ فیمین سے وابستہ مادر پادر آزاد لڑکیوں نے یہ نعرے ''اللہ اکبر'' کی پیروڈی میں لگائے تھے۔

امینہ نے پیرس میں ایک مسجد کے باہر توحید کی علامت سیاہ پرچم کو نذرآتش کرنے پر بھی تنقید کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اس سے بہت سے مسلمانوں اور میرے بہت سے دوستوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ہمیں ہر کسی کے مذہب کا احترام کرنا چاہیے''۔

انھوں نے فیمین گروپ کے مالی امور کی عدم شفافیت پر بھی تنقید کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''میں نہیں جانتی تحریک کو رقوم کہاں سے مل رہی ہیں۔میں نے فیمین کی لیڈر عینا شیوچنکو سے متعدد مرتبہ اس حوالے سے سوال پوچھا تھا لیکن مجھے کبھی اس کا واضح جواب نہیں ملا۔میں مشتبہ رقم سے چلنے والی تحریک میں نہیں رہنا چاہتی۔اگر اس کو اسرائیل سے بھی رقوم مل رہی ہیں تو میں اس کو جاننا چاہتی ہوں''۔

فیمین تحریک سے وابستہ خواتین نے امینہ سبوئی کی گرفتاری کے خلاف تیونس اور فرانس میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔اس تیونسی عورت نے قیروان شہر میں سلفی گروپ کے خلاف عریاں مظاہرہ کیا تھا اور شہر کے قبرستان کے نزدیک دیوار پر لفظ ''فیمین'' پینٹ کردیا تھا جس سے اس گروپ سے اپنا تعلق ظاہر کیا تھا۔

امینہ نے فیس بُک پر اس سے پہلے بھی اپنی عریاں تصاویر پوسٹ کی تھیں اور چند روز قبل اپنی ایک نئی عریاں تصویر پوسٹ کی ہے۔انھیں اگست میں تیونسی عدالت نے رہا کردیا تھا۔تاہم ان کے خلاف قبرستان کی توہین کے الزام میں مقدمہ ختم نہیں ہوا ہے اور یہ ابھی زیرسماعت ہے۔اب وہ خود کو انارکسسٹ قرار دے رہی ہیں۔

تیونس کے دارالحکومت تیونس میں 29 مئی کو دو فرانسیسی اور ایک جرمن خاتون نے مکمل طور پر برہنہ ہوکر امینہ سبوئی کے حق میں مظاہرہ کیا تھا۔ان تینوں عورتوں کا بھی اخلاق باختہ گروپ ''فیمین'' سے تعلق تھا۔انھوں نے امینہ سبوئی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ دنیا میں خواتین کے حقوق کے نام پر آمریت کے خلاف مظاہرے کرنے والی یہ تنظیم یوکرین میں قائم کی گئی تھی۔اب اس کے صدر دفاتر یوکرین میں قائم ہیں۔