.

مرشد اعلی کے اقارب کا اصلاح پسند رہ نماؤں کی رہائی کا مطالبہ

کروبی اور موسوی کی نظربندی عظیم سانحہ ہے:ھادی خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر اور رہبرانقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی عزیزوں نے اصلاح پسند رہ نماؤں میرحسین موسوی اور مہدی کروبی کی نظربندی کو 'ظالمانہ اور عظیم سانحہ' قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مرشد اعلی کے بھائی ھادی خامنہ ای اور ہمشیرہ بدری خامنہ ای نے گھر پر نظربند اصلاح پسند لیدرمہدی کروبی کے اہل خانہ سے ملاقات کی اوران سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

اپوزیشن کے ہمنوا "سخام نیوز" ویب پورٹل کی رپورٹ کے مطابق مہدی کروبی کے اہل خانہ سے ملاقات کے دوران ھادی خامنہ ای اور ان کی ہمیشرہ نے اصلاح پسند رہ نماؤں کی نظربندی کو عظیم سانحہ قرار دیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ھادی خامنہ ای نے امید ظاہر کی اصلاح پسند رہ نماؤں کے خلاف ریاستی جبر زیادہ دیر تک نہیں چلے گا اور وہ جلد رہائی پا کر سیاسی میدان میں متحرک ہوں گے۔

سپریم لیڈر کے بھائی نے اپوزیشن ک ےخلاف روا رکھنے جانے والے حکومتی طرز عمل پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ مہدی کروبی کی جبری نظربندی اللہ کی طرف سے ایک عظیم آزمائش ہے لیکن انہیں امید ہے کہ کروبی اور موسوی اس آزمائش میں بھی کامیاب ہوں گے۔ ظالمانہ نظربندی سے ان کی قدرو منزلت میں مزید اضافہ ہوگا اور وہ سنہ 2009ء سے قبل کی نسبت زیادہ مقبول لیڈر بن کرابھریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اصلاح پسندوں کی جبری نظربندی صرف اصلاح پسندوں کے خلاف نہیں بلکہ یہ پوری قوم کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میرا حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ مہدی کروبی اور حسین موسوی کی نظر بندی ختم اور حراست میں لیے گئے تمام اصلاح پسندوں کو فوری طور پر رہا کرے۔

یال رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بھائی کا اصلاح پسندوں کے بارے میں تازہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مہدی کروبی اور حسین موسوی کی گرفتاری اور نظربندی کے احکامات براہ راست مرشد اعلیٰ کی جانب سے صادر کیے گئے تھے۔

تین سال سے نظربند مہدی کروبی اور حسین موسوی کی خرابی صحت کے بارے میں بھی تشویشناک رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ چند روز پیشترایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ طویل نظربندی کے باعث بزرگ سیاست دان مہدی کروبی عارضہ قلب میں مبتلا ہیں۔ ڈاکٹروں نے انہیں سرجری کے لیے فوری طور پراسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا ہے تاہم سیکیورٹی حکام نے ڈاکٹروں کی تجویز مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ کروبی کو گھرپرہی علاج کی سہولت مہیا کی جائے گی۔

محمد حسین موسوی اور مہدی کروبی سمیت اصلاح پسندوں کی سرکردہ قیادت کو سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے نتائج مسترد کرنے اور ملک میں احتجاجی تحریک چلانے کی پاداش میں حراست میں لیا گیا تھا۔ سنہ 2009ء میں ان کی اپیل پر تہران سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کےخلاف لاکھوں لوگ سڑکوں پرنکل آئے تھے۔ تاہم صدر احمدی نژاد اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کے براہ راست احکامات پر اصلاح پسندوں کی یہ تحریک کچل دی گئی تھی۔