.

"حج کے موقع پر کسی کو سیاست چمکانے کی اجازت نہیں دیں گے"

وزیرحج: حجاج کرام اسلامی تعلیمات کی پابندی کو یقینی بنائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ماضی کی طرح اس سال بھی حج کے موقع پر کسی قسم کی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مناسک حج کے سوا کسی بھی دوسری سرگرمی یا قانون کی خلاف ورزی پرسخت کارروائی کی جائے گی۔

ان خیالات کا اظہار وزیر برائے امور حج الشیخ بندرالحجار نے حج کمیشنز کے حکام کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے اجلاس میں حج کے حوالے سے ایک نئے ضابطہ اخلاق کی بھی منظوری دی اور ملک بھر کے تمام حج دفتروں کو اس بات کا پابند بنایا کہ وہ بیرون ملک سے آنے والے عازمین حج کی ہرممکن خدمت کے ساتھ ان کی خلاف ضابطہ نقل وحرکت پربھی نظر رکھیں۔

بندرالحجار کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک کے حج کمیشنز کے ساتھ طے پائے معاہدے میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ حکومت مناسک حج کے سوا حجاج کو کسی قسم کے احتجاجی مظاہرے یا سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں دے گی۔

بعد ازاں "العربیہ" نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرحج کا کہنا تھا کہ مناسک حج کے حوالے ضابطہ اخلاق نیا نہیں اور جن ممالک کے نمائندوں نے اس پر دستخط کیے ہیں وہ جانتے ہیں کہ انہیں سعودی حکومت کی پالیسی کتنی سختی سے پابندی کرنا ہوگی۔

الشیخ الحجارنے واضح کیا کہ حج کے موقع پر لٹریچر، تصاویر اور کتب تقسیم کرنے، احتجاجی ریلیاں نکالنے اور کانفرنسیں منعقد کرنے پر سختی سے پابندی ہو گی۔ ایسی کسی سرگرمی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حج ایک عبادت ہے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ اللہ کے گھر کی زیارت کے لیے آنے والوں کے لیے یہ بات مناسب نہیں کہ وہ غیرضروری مشاغل سے اپنے عظیم فریضے کے ثواب کو ضائع کر دیں۔