.

امریکا کیطرف سے مصر کی فوجی امداد میں کمی کی تردید

اوباما معاملہ کابینہ میں زیر بحث لائیں گے: ترجمان وائٹ ہاوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاوس کے ترجمان نے ان خبروں کی تردید کر دی ہے امریکا نے مصرمیں حالیہ خونریزی کے بعد مصر کی فوجی امداد میں تخفیف کی ہے۔

ترجما ن '' جاش ارنیسٹ ''نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ، صدر اوباما اس معاملے کو کابینہ کے اجلاس میں زیر بحث لائیں گے۔ اس کے بعد مصر کے لیے امداد میں کٹوتی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس لیے میڈیا میں آنے والی ان خبروں میں صداقت نہیں ہے کہ امریکا نے مصر کی امداد میں کمی کر دی ہے۔

دوسری جانب اسرائِیلی ذرائع نے'' العربیہ'' کو بتایا ہے کہ صدر اوباما نے خاموشی سے مصر کے لیے امداد روک دی ہے اور مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کو اس بارے میں پیغام بھی بھجوا دیا ہے ۔ تاہم یہ اپنی جگہ درست ہے کہ تکنیکی اعتبار سے امداد کی کٹوتی بے معنی ہے کہ 585 ملین ڈالر کی مصری فوج کے لیے امداد اپنی جگہ موجود رہے گی اور اس پر کچھ اثر نہیں پڑے گا۔

واضح رہے سینیٹر پیٹرک لیہہ نے ڈیلی بیسٹ کو بتایا تھا کہ ''یہ میری تفہیم ہے کہ قانونی تقاضے کے تحت مصر کے لیے فوجی امداد بند کردی گئی ہے''۔

اس اخبار کی رپورٹ کے مطابق ''اوباما انتظامیہ نے مصر کی براہ راست فوجی امداد، مصری فوج کو ہتھیاروں کو فراہمی اور مصری حکومت کے لیے اقتصادی امداد کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے اور وہ اس ملک کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لے گی''۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ''مصری فوج کے لیے 2013ء میں موعودہ ساڑھے اٹھاون کروڑ ڈالرز کی امدادی رقم نہیں روکی گئی کیونکہ یہ رقم ٹیکنیکل طور پر 30 ستمبر کو امریکا کے مالی سال کے اختتام سے قبل قابل ادا نہیں ہے''۔