.

ایران، روس نے شام کو کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے میں "کلین چٹ" دے دی

کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ثابت ہونے پر طاقت کا استعمال کیا جائے: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور روس نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے تیرہ سو سے زائد شامی مردوں، عورتوں اور بچوں کی موت کی ذمہ داری سے بشار الاسد اور ان کی رجیم کو بری قرار دے دیا ہے۔ ایران کے مطابق اگر شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع ہوا بھی ہے تو یہ شامی باغیوں کی کارروائی ہے جو اپنی کارروائیوں سے ثابت کرچکے ہیں کہ وہ کسی بھی جرم سے اجتناب کرنے والے نہیں ہیں ۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا شامی حکومت ایسی کارروائیوں میں ملوث نہیں ہو سکتی ہے، کیونکہ شامی افواج کا باغیوں کے خلاف پلہ بھاری ہے۔ درایں اثناء روس نے بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو باغیوں کی سوچی سمجھی کارروائی قرار دیا ہے ۔

شام میں 1988 میں عراقی کردوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال جس کے نتیجے میں ہزاروں کردوں کی ہلاکت کے بعد یہ پہلا بڑا واقعہ ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے ہیں۔

ادھر فرانس نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے اس واقعے کے بارے میں کہا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کیمیائی ہتھیاروں سے اتنی بڑی تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے تو شام کے خلاف طاقت استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جانا چاہیے۔

فراانس نے یہ واضح نہیں کیا کہ طاقت کے استعمال کی صورت کیا ہو گی۔ فراانس کے وزیر خارجہ لوراں فیبیوس نے مزید کہا '' فرانس بڑا واضح ہے کہ اس بہیمانہ واقعے کا ضرور نوٹس لیا جا ئے اور اس خوف ناک واقعے کا ردعمل سامنے لا یا جائے۔