.

بریڈلی میننگ کو 35 برس کی سزائے قید سنا دی گئی

امریکی فوجی تین برس سے زائد عرصے سے زیرِ حراست تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوجی بریڈلی میننگ کو وکی لیکس کو خفیہ سفارتی دستاویزات فراہم کرنے کے مقدمے میں 35 برس کی سزائے قید سنا دی گئی ہے۔ وکلائے استغاثہ کم از کم 60 برس قید کی توقع کر رہے تھے۔

بریڈلی میننگ کے اس مقدمے کی سماعت بدھ کو میری لینڈ کے علاقے فورٹ میڈ کی ایک فوجی عدالت میں ہوئی۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جج نے اس سزا کے لیے کسی طرح کی وضاحت پیش نہیں کی۔

جج نے سزا کا فیصلہ سنایا تو میننگ توجہ سے سنتے رہے اور انہوں نے کسی ردِعمل کا اظہار نہیں کیا۔ میننگ کی تنزلی بھی کر دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی اسے عہدے سے ہٹاتے ہوئے اس کی تنخواہ بھی ضبط کر لی گئی۔

سات لاکھ سے زائد دستاویزات، جنگی ویڈیوز اور سفارتی پیغامات وکی لیکس کو دینے پر میننگ کو 90 برس تک کی سزائے قید کا سامنا تھا۔ وکلائے استغاثہ کم از کم 60 برس کی سزا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میننگ کے لیے اتنے عرصے کی سزا دوسرے فوجیوں کی حوصلہ شکنی کرے گی تاکہ وہ اس کے نقشِ قدم پر نہ چلیں۔

وکیل صفائی ڈیوڈ کُومبز کا کہنا ہے کہ میننگ ساڑھے چھ برس میں جیل سے باہر آ سکتے ہیں۔ انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ ایک تو وہ پہلے ہی تین برس سے زائد عرصے سے زیر حراست ہے اور دورانِ قید چال چلن بھی اچھا رہا تو جلد رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔

عدالت کے قریبی ایک ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کُومبز نے کہا کہ آئندہ ہفتے وہ فوج کے توسط سے ایک درخواست دائر کریں گے کہ صدر میننگ کو معاف کر دیں یا کم از کم اس کی سزا کا دورانیہ اتنا کر دیں جو وہ پہلے ہی قید میں گزار چکا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ میننگ صدارتی معافی چاہتا ہے تو اسے رحم کے لیے درخواست دینا ہو گی اور اس کی درخواست پر کسی بھی دیگر درخواست کی طرح طے شدہ ضوابط کے تحت غور کیا جائے گا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور میننگ سپورٹ نیٹ ورک نے ایک آن لائن پٹیشن شروع کی ہے جس میں صدر باراک اوباما سے میننگ کو معاف کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

بریڈلی میننگ نے تین برس قبل وکی لیکس ویب سائٹ کو امریکا کی سات لاکھ خفیہ سفارتی دستاویزات فراہم کی تھیں۔ امریکی تاریخ میں خفیہ ڈیٹا کی اتنی بڑی تعداد کے سامنے آنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔