شام میں فوجی مداخلت امریکا کے قومی مفاد میں نہیں: جنرل ڈمپسی

"بشار الاسد کے مخالف شامی باغی امریکی جنگ نہیں لڑ رہے ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈمپسی نے کہا ہے کہ شام میں باغیوں کی حمایت میں فوج داخل کرنا امریکا کے قومی مفاد میں نہیں ہے کیونکہ باغیوں کی تحریک کے پیش نظر بھی ہمارے مفادات نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں فوج کشی خطے میں امریکی اتحادیوں کے لیے مشکلات کھڑی کرسکتی ہے۔ ان کا اشارہ اسرائیل اور اردن کی جانب تھا جن کا پچھلے ہفتے انہوں نے دورہ بھی کیا تھا۔

خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کے مطابق امریکی فوج کے سربراہ نے ڈیموکریٹس سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس الیوٹ اینگل کو بھیجی گئی ای میل میں شام میں فوجی مداخلت سے گریز کا تذکرہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: "شام میں فوجی مداخلت چاہے وہ محدود پیمانے پر ہی کیوں نہ ہو امریکا کے مفاد میں نہیں"۔ ہم (امریکا) صرف وہاں پرہی فوجی کارروائی کی حمایت کرتے ہیں جہاں امریکی قوم کے مفادات ہوں، شام میں فی الحال ایسا نہیں ہے۔ باغی امریکا کی جنگ نہیں لڑ رہے ہیں اور نہ ہی ان کے پیش نظر ہمارے قومی مفادات ہیں۔

جنرل ڈمپسی کا کہنا تھا کہ شام میں شہریوں کی بڑے پیمانے پرہلاکتوں کی ذمہ دار بشار الاسدد کی وفدار فضائیہ اور جنگی جہازوں کو تباہ کرنا ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں۔ اگر شام میں مداخلت کی ضرورت پڑتی ہے تو یہ صرف فوجی کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ مسئلے کے حل تک امریکا کے کردار کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرمحدود امریکی فوجی مداخلت سے شام میں طاقت کا توازن تبدیل بھی ہوگیا تب بھی مذہبی، گروہی اور قبائلی تنازعات کے چیلنجز اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔ جنرل ڈمپسی نے کہا کہ شام میں جاری تحریک کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ یہ ایک طویل المدتی جنگ ہے جو بشارالاسد کی اقتدار سے برخاستگی کے بعد بھی جاری رہنے کا خدشہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں