.

چار انگشت کا سلیوٹ: ''رابعہ ہاتھ'' کی سوشل میڈیا تشہیر

''رابعہ ''مصر کی فوجی انقلاب مخالف قوتوں کی عالمی علامت بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے رابعہ العدویہ اسکوائر میں احتجاجی دھرنا دینے والے سابق صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے خونریز کریک ڈاؤن کے خلاف ہاتھ کی چار انگلیوں کا نشان فتح کی ایک نئِی علامت بن کر ابھرا ہے اور یہ مصر کے علاوہ دنیا بھر میں بہت مقبول ہوا ہے۔

سماجی روابط کی ویب سائٹس پر اس نئی علامت کی خوب تشہیر کی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ مصر کی مسلح فورسز کی جانب سے پُر امن مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے مہابا استعمال کی بھرپور مذمت کی جا رہی ہے۔

دو انگشت کے روایتی امن یا فتح کے نشان کو اب گزری صدی کی یادگار سمجھا جا رہا ہے اور ہر طرف رابعہ العدویہ اسکوائرکی یاد میں چار انگلیوں کے نشان کا چرچا ہے۔ سماجی روابط کی ویب سائٹس پر ''چار انگشت کے سلیوٹ'' کو تیز زرد رنگ کے ساتھ بنایا گیا ہے۔

عربی میں رابعہ چار کو کہتے ہیں اور ہاتھ کی چار انگلیوں کی علامت کو مظاہرین کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ جب اس نشان کو بنایا جاتاہے تو اس میں ہاتھ کی چار انگلیوں کو بلند کیا جاتاہے، یہاں رابعۃ العدویہ کے میدان کی مناسبت سے رابعہ یعنی چار کے لفظ کو اجاگر کیا گیا ہے۔

R4BIA کا نشان دراصل مصر میں رابعۃ العدویہ کے میدان میں جاں بحق ہونے والے ہزاروں مسلم بھائیوں اور بہنوں سے اظہار یک جہتی کی علامت ہے اور یہ دہری کامیابی کا نشان بھی ہے، یعنی دنیا اور آخرت ميں کامیابی۔

رابعہ ہاتھ: اصل اور نقل

مصری فورسز نے گذشتہ بدھ اور جمعرات (14 اور 15 اگست) کو رابعہ العدویہ چوک اور النہضہ چوک میں دھرنا دینے والے برطرف صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں کے خلاف ٹینکوں، بلڈوزروں اور ہیلی کاپٹروں کے ساتھ کارروائی کی تھی جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے.

مصر کی وزارت صحت نے گذشتہ جمعرات کو بتایا تھا کہ کارروائی میں 623 افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن اخوان المسلمون نے ہلاکتوں کی تعداد 2200 بتائی تھی اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے تھے۔

رابعہ العدویہ اسکوائر میں پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے اس بے مہابا استعمال کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی ہے اور فیس بُک اور ٹویٹر پر خاص طور پر انقلاب مخالف تحریروں اور صفحات کی بھرمار ہوگئی ہے۔ ان میں صارفین سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے صفحات میں رابعہ کے نشان کو استعمال کریں۔

رابعہ کے نشان کو نمایاں کرنے کا سلسلہ احتجاجی مظاہرین تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن پہلے اسلامی لیڈر تھے جنھوں نے 17 اگست کو برسہ میں ایک تعمیراتی منصوبے کے افتتاح کے موقع پر اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے اس نشان کو بنایا اور انھوں نے اجتماع کے شرکاء کو متعدد مرتبہ اس طرح چار انگلیوں کے اشارے سے سلیوٹ کیا۔

ترکی کے متعدد فٹ بالروں نے بھی گول کرنے کے بعد ہاتھ سے رابعہ کا نشان بنایا اور اس کو بلند کیا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جس ترک فٹ بالر نے سب سے پہلے یہ نشان بلند کیا، وہ عمرو بلوزاوغلو ہیں۔انھوں نے گول کے بعد رابعہ کا نشان بنایا اور اس کے بعد فوجی انقلاب مخالف کارکنان نے یہ علامت ہر جگہ بلند کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔

استنبول سے تعلق رکھنے والا انسانی امدادی ادارہ آئی ایچ ایچ ایسی ٹی شرٹس اور بیج تقسیم کررہا ہے جن پر رابعہ ہاتھ کا زرد اور سیاہ نشان بنا ہوا ہے اور لوگو لگا ہوا ہے۔

رابعہ کیا ہے؟

رابعہ کے نشان کی چند ہی گھنٹے میں تشہیر ہوگئی تھی۔ اس کی تخلیق سب سے پہلے کہاں ہوئی ہے، اس حوالے سے صورت حال ابھی واضح نہیں ہے۔ تاہم ترکی سے تعلق رکھنے والے فوجی انقلاب مخالف کارکنان نے رابعہ ڈاٹ کام [R4bia.com] کے نام سے ایک ویب سائٹ بھی بنا دی گئی ہے۔ اس پر عربی، انگریزی اور ترک زبانوں میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ رابعہ کیا ہے؟

رابعہ آزادی کی علامت ہے۔

رابعہ آزادی اور انصاف کی نئی تحریک کا نام ہے۔

رابعہ نئی دنیا کی پیدائش ہے۔

رابعہ دنیا کے منظرنامے پر مسلمانوں کی واپسی کا نام ہے۔

رابعہ کا مطلب انصاف ،آزادی اور ضمیر ہے۔

رابعہ وہ جگہ ہے جہاں مغرب کی نام نہاد اقدار کا دھڑن تختہ ہوگیا۔

رابعہ کا مطلب مصری ہیروز ہیں جو مر کر آزاد ہوگئے۔

رابعہ ان لوگوں کا نام ہے جنھوں نے اپنی شہادت سے پوری اسلامی دنیا کو جگا دیا۔

رابعہ وہ جگہ ہے جہاں لوگوں نے اپنی موت کو حیات جاوید بنا دیا ہے۔

رابعہ ہمارے بچوں کا نیا نام ہے جو دنیا کو تبدیل کریں گے۔

رابعہ انسانیت کی نئی سانس ہے۔

رابعہ خوفناک مغربی اقدار کے خلاف ہر کسی کے لیے انصاف کا نام ہے۔

رابعہ اسلامی دنیا کا اتحاد ہے۔

رابعہ ہماری بیٹی اسماء ہے۔

یہاں ہماری دختر اسماء سے مراد اسماء البالتاجی ہیں، جو اخوان المسلمون کے سنئیر رہ نما محمد البالتاجی کی صاحبزادی تھیں۔ وہ رابعہ اسکوائر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران جاں بحق ہوگئی تھیں۔

اس ویب سائٹ کی انتظامی ٹیم سے تعلق رکھنے والے ایک ذریعے نے "العربیہ" کو بتایا کہ رابعہ ڈاٹ کام کا کوئی ایک مالک نہیں ہے۔ اس کے مالکان شیعہ اور سنی ہیں جو شام، عراق ،میانمر، غزہ اور دنیا کے دوسرے حصوں میں مارے جا رہے ہیں۔

درایں اثناء ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے رابعہ کی علامت کے بارے میں بلند توقعات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ روایتی ''وی'' کے نشان کی جگہ لے گا اور یہ فتح اور یک جہتی کا نمائندہ ہے۔

''رابعہ'' کے مقابلے میں پنجہ

چار انگشتوں والے رابعہ کے نشان کے مقابلے میں مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے حامیوں نے ان کے حق میں پانچ انگلیوں پر مشتمل پنجے کے نشان کی تشہیر شروع کر رکھی ہے۔ اس کو مصر کا روایتی نشان سمجھا جاتا ہے اور اس سے مراد برائی یا نحوست کو دور کرنا ہے۔

سوشل میڈیا کی بہت سی ویب سائٹس پر ہاتھ کی تصویر کے نیچے جنرل سیسی کے حق میں بیان درج کیا گیا ہے۔ فوج کی حمایت میں دونوں بازوؤں سے ''او کے'' کے نشان کی بھی تشہیر کی جارہی ہے۔ تاہم اس میں انگلیوں کو موڑ کر ''سی'' کی شکل دے دی گئی ہے۔ اس طرح دو ''سی ،سی'' بن گئے ہیں جن سے مراد جنرل سیسی ہیں۔