.

ایران: زیر حراست 85 فی صد خواتین اور 35 فی صد مرد بدفعلی کا شکار

موجودہ حکومت قیدیوں پر تشدد کی ذمہ دار ہے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے جیلوں میں قید مرد و زن کے ساتھ جیلروں کے ناروا سلوک کے ہوشربا اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ 'یو این' مندوب احمد شہید کا کہنا ہے کہ ایرانی عقوبت خانوں میں قید 85 فی صد خواتین کو آبرو ریزی اور 35 فی صد مردوں کو بدفعلی جیسے گھناؤنے جرائم کا سامنا ہے۔

فارسی اخبار"شہروند" کی رپورٹ کے مطابق کنییڈا کے شہر ٹورنٹو میں ایرانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے احمد شہید کا کہنا تھا کہ ایران کی جیلوں میں قیدیوں سے بد سلوکی اور ان کے خلاف ظالمانہ ہتھکنڈوں کا استعمال ایک سوچے سمجھے اور منظم منصوبے کے تحت ہو رہا ہے، جس میں ریاستی کارپرداز بھی ملوث ہیں۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایران میں تشدد میں ملوث مجرموں کی سرپرستی کرنے اور انہیں معاف کرنے والا نظام موجود ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران عالمی میڈیا میں ایرانی جیلوں میں قیدیوں پر تشدد کے حوالے سے ان کی عصمت دری کی خبروں پر مشتمل رپورٹیں بکثرت سامنے آتی رہی ہیں۔ سنہ 2009ء میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کی صدارتی انتخابات میں فتح کے بعد اصلاح پسند لیڈروں مہدی کروبی اور حسین موسوی کی برپا کردہ احتجاجی تحریک کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ سنہ دو ہزار نو ہی میں محروس اصلاح پسند لیڈر مہدی کروبی نے سابق صدرعلی اکبر ہاشمی رفسنجانی کو ایک خط میں لکھا تھا کہ ان کے پاس تفتیش کاروں اور جیلروں کے ہاتھوں خواتین اور مردوں سے زیادتی کے واقعات کے کئی ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کے مندب برائے انسانی حقوق نے سیاسی بنیادوں پر حراست میں رکھے گئے تمام رہ نماؤں اور کارکنوں کو رہا کرنے بالخصوص اصلاح پسند لیڈروں مہدی کروبی اور محمد میر حسین موسوی کی جبری نظربندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ احمد شہید نے ایرانی عدالتوں سے قیدیوں کو پھانسی کی سزائیں دینے کے رحجان کی بھی شدید مذمت کی اور پھانسی کے سزا یافتہ پانچ اہوازی عرب باشندوں کی سزا پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ ایران کے عرب اکثریتی صوبہ اھواز کے پانچ افراد کو ثقافتی سرگرمیوں کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے اور انہی سرگرمیوں کے الزام میں انہیں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی صدر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو احتجاجی خطوط تحریر کرنے کی پاداش میں بھی بیس افراد کو لمبی قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔