.

دمشق میں باغیوں کا حملہ دو ایرانی فلم آرٹسٹ ہلاک

مقتولین دستاویزی فلم کی عکس بندی کر رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ محاذ جنگ پرعکس بندی کرتے ہوئے ایران کے دو فلم آرٹسٹ بھی باغیوں کی گولیوں سے ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق دمشق میں سرکاری ٹی وی کے لیے جنگ سے متعلق ایک دستاویزی فلم کی عکس بندی کرتے ہوئے پروڈیوسرھادی باغبانی مارے گئے تھے۔ باغبانی کے قتل کے بعد ان کے ایک دوسرے ساتھی اسماعیل حیدری ان کی جگہ نے محاذ جنگ کی کوریج کا فیصلہ کیا لیکن باغیوں نے اسے بھی گولیاں مار کرقتل کردیا۔

ایرانی میڈیا نے اپنے دونوں فلم پروڈیوسروں کے قتل کی ذمہ داری بشارالاسد کے خلاف لڑنے والے سلفی جہادی گروپوں پر عائد کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس عراقجی نے فلم آرٹسٹوں کے قتل کی ذمہ داری شام میں جنگجوؤں کو اسلحہ فراہم کرنے والے ملکوں پرعائد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جو ممالک شام میں سلفی جہادی گروپوں کو اسلحہ پہنچا رہے ہیں وہی ہمارے فلمی آرٹسٹوں کے قتل میں ملوث ہیں"۔

شام میں ایرانی فلم پروڈیوسروں کی آمد کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ پاسداران انقلاب کی مقرب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسی" فارس" نے جنگی فلمیں تیار کرنے کے ماہرپروڈیوسر مرتضیٰ شعبانی کا ایک انٹرویو کیا تھا۔ اس انٹرویو میں مسٹرشعبانی کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران ایرانی فلمی آرٹسٹوں کے کئی گروپ شام کے محاذ جنگ کی کامیاب عکسر بندی کے بعد واپس آئے ہیں اور انہوں نےجنگ کی صورت حال پر 22 دستاویزی فلمیں تیار کی ہیں۔

ایرانی فلم پروڈیوسر کا کہنا تھا کہ حالیہ کچھ عرصے سے بشارالاسد کی وفادار فوجیں پے درپے فتوحات حاصل کرتی جا رہی تھیں۔ ایرانی فلمی آرٹسٹوں کا گروپ انہی فتووحات کی عکس بندی کرنا چاہتا تھا لیکن باغیوں کے اچانک حملے میں انہیں قتل کردیا گیا۔