شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر گہری تشویش ہے: براک اوباما

امریکی صدر کا شام میں مسلح مداخلت کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر براک اوباما نے شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے سی این این کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ''اس ہفتے شامی حزب اختلاف کی جانب سے شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق لگائے گئے الزامات زیادہ سنگین ہیں''۔

انھوں نے جمعہ کو نشر ہونے والے اس انٹرویو میں کہا کہ ''ہم اس واقعہ کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کر رہے ہیں لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس سے قبل ہم جس طرح کے شواہد اکٹھے کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں،ان کے برعکس یہ سب بڑا واقعہ ہے''۔

تاہم اوباما نے یہ نہیں کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ان کے بہ قول ''سرخ لکیر'' بن گیا ہے یا نہیں اور آیا امریکا شام میں فوجی مداخلت کرے گا یا نہیں۔ اس سے پہلے وہ شام کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر سنگین نتائج کی دھمکی دے چکے ہیں۔

درایں اثناء روس نے شامی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے معائنہ مشن کے ساتھ تعاون کرے اور اس کو بشارالاسد کے فوجیوں کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات کی تحقیقات کرنے کی اجازت دے۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف اور ان کے امریکی ہم منصب جان کیری دونوں نے شامی قصبے غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات پر زوردیا ہے۔دونوں نے جمعرات کواس ایشو پر ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

ادھر سیول میں سفارت کاروں کے ایک فورم میں گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے بھی شامی حکومت اور حزب اختلاف کی فورسز پر زوردیا ہے کہ وہ معاملے کی حقیقت کو منظرعام پر لانے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔

انھوں نے کہا کہ ''کہیں بھی ،کسی کی جانب سے بھی اور کسی بھی حالات میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگا''۔ انھوں نے خبردار کیا کہ انسانیت کے خلاف اس جرم کے ذمے داروں کے لیے سنگین مضمرات ہوں گے۔

شامی حزب اختلاف نے صدر بشارالاسد کی حکومت پر غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات عاید کیے ہیں۔ غوطہ میں منگل اور بدھ کو کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں مرنے والے سیکڑوں افراد کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ شامی حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ واقعے میں ملوث نہیں ہے۔

شامی کارکنان نے غوطہ میں کیمیائی حملے میں مرنے والوں کی لاشوں کے نمونے حاصل کر لیے ہیں اور وہ انھیں دمشق میں ایک ہوٹل میں مقیم اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ غوطہ میں بدھ کو کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں ایک ہزار تین سو افراد کی ہلاکتوں کی اطلاع سامنے آئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں