.

بان کی مون، معائنہ کار شام بھجنے کے عزم کا اعادہ

سیئول میں سفارت کاروں سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شام میں مبینہ کیمیائی اسلحے کا سراغ لگانے کے لیے یو این کے معائنہ کار بھجوانے کی ضرورت کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار جمعہ کے روز کوریا کے دارالحکومت میں سفارت کاروں سے گفتگو کے دوران کیا ہے۔

بان کی مون نے کہا ''میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی جماعت خواہ اس کا تعلق حکمران جماعت سے ہو یا اپوزیشن سے ہو، کے لیے یہ اچھا نہیں ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کا پتہ چلانے کی خاطر آنے والے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی راہ میں رکاوٹ ڈالے۔ بان کی مون نے کہا معانہ کاروں کے ذریعے ایک انسانی جانیں بچانے اور مظلومانہ اموات روکنے کا موقع فراہم ہو گا، اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔''

واضح رہے شامی حکومت نے عوامی سطح پر ابھی تک اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کاروں کو ابھی تک ایسا کوئی ریسپانس نہیں دیا ہے کہ معائنہ کار ان متاثرہ جگہوں کا معائنہ کر لیں جن جگہوں پر گزشتہ دنوں مبینہ طور پر کیمیائی حملے ہوئے ہیں۔

شامی اپوزیشن کے مطابق دمشق کے نواح میں کیمائی ہتھیاروں سے ایک 500 سے 1300 تک شامی عوام لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اوباما انتظامیہ نے شام میں ہونے والی ان ہلاکتوں کو دل دہلا دینے والی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب فرانس کے وزیر خارجہ لوراں فیبیوس کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی صورت اس شام کے خلاف طاقت بروئے کار لانے کے لیے کہہ چکے ہیں۔