.

"میں مرد نہیں بلکہ عورت ہوں:" میننگ کا انوکھا انکشاف

بقیہ زندگی 'صنف نازک' کے طور پر گذارنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وکی لیکس کو لاکھوں خفیہ راز فراہم کرنے کے جرم میں 35 سال قید کی سزا کا سامنا کرنے والے امریکی فوجی بریڈلی میننگ نے اپنے بارے میں بھی ایک انوکھا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ "وہ مرد نہیں، بلکہ ایک عورت ہے۔ وہ بقیہ زندگی 'صنف نازک' کے طورپر گذارنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

بریڈلی میننگ نے خود کو خاتون قرار دینے کا مُبینہ اعتراف ایک خط میں کیا ہے جو امریکی ٹیلی ویژن "این بی سی" کے پروگرام" ٹو ڈے" میں پڑھ کر سنایا گیا۔ بریڈلی نے اس خط میں لکھا ہے کہ "میں یہ بات سب پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ درحقیقت میں ایک خاتون ہوں۔ میرا اصل نام "چیسلی میننگ" ہے اور میں بقیہ زندگی ایک خاتون ہی کی حیثیت سے گذارنا چاہتا ہوں۔"

وہ مزید لکھتے ہیں: "میں بچپن سے اپنے ہارمونز کے جلد از جلد علاج کا خواہاں رہا ہوں۔ آج تک تو علاج نہیں ہوسکا ہے لیکن اب مجھے امید ہے کہ آپ لوگ تبدیلی کے اس عمل میں میری مدد کریں گے۔ میں آپ سب سے یہ اپیل کروں گا کہ مجھے میرے اصلی نام [چیسلی میننگ] سے پکاریں اور میرے نام کی جگہ مؤنث کا صیغہ استعمال کریں۔

خیال رہے کہ امریکی فوج میں بریڈلی میننگ کے نام سے مشہور فوجی کو امریکا کی ایک عدالت نے دو روز قبل عالمی سفارتی کاری کے راز افشاء کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کو سات لاکھ خفیہ فوجی اور سفارتی دستاو یزات فراہم کرنے کے جرم میں 35 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

بریڈلی میننگ کی جانب سے خود کو خاتون قرار دینے سے کئی سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ اگر وہ واقعی ایک خاتون ہے تو یہ امریکی فوج میں بھرتی کے معیار پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ کیا بریڈلی کی بھرتی کے وقت اس کا میڈیکل چیک اپ نہیں کیا گیا تھا؟ مبصرین کا خیال ہے کہ بریڈلی کے خاتون ہونے کے دعوے پرفوری طور پرمہرتصدیق ثبت کرنا مشکل ہے۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ خود کو طویل سزا سے بچانے کے لیے یہ حربہ استعمال کر رہا ہو۔