افغان شہریوں کے قتل میں ملوث امریکی فوجی کو عمر قید کی سزا

رابرٹ نے گذشتہ برس قندھار میں بچوں، عورتوں سمیت 16 شہری قتل کئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سولہ افغان شہریوں کے قتل میں ملوث امریکی فوجی اسٹاف سارجنٹ رابرٹ بیلز کو ایک امریکی فوجی عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ بیلز نے موت کی سزا سے بچنے کے لیے اعتراف جرم کر لیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی فوجی عدالت نے دو گھنٹے کی مشاورت کے بعد اسٹاف سارجنٹ رابرٹ بیلز کو گذشتہ روز عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

گذشہ برس جون کے مہینے میں قندھار میں عورتوں اور بچوں سمیت سولہ شہریوں کو ہلاک کرنے والے امریکی اسٹاف سارجنٹ رابرٹ بیلز نے سزائے موت سے بچنے کے لیے فوجی استغاثہ کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت اعتراف جرم کر لیا تھا۔ برطانوی نیوز ایجنسی رائیٹرز نے بتایا تھا کہ انتالیس سالہ رابرٹ بیلز نے فوجی ٹربینونل کے سامنے باقاعدہ طور پر اعتراف جرم کیا تھا کہ اس نے گیارہ مارچ 2012ء کو قندھار صوبے میں بلا اشتعال فائرنگ کرتے ہوئے سولہ افغان شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

مقدمے کے دوران دو بچوں کے باپ رابرٹ بیلز کے وکیل کا مؤقف تھا کہ اس کا مؤکل افغانستان تعینات کیے جانے سے پہلے ہی نفیساتی مسائل کا شکار ہو چکا تھا۔ وکیل صفائی جان ہینری براؤن کے بقول رابرٹ بیلز ’پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر‘ (پی ٹی ایس ڈی) نامی ذہنی عارضے میں مبتلا ہے۔

رابرٹ بیلز نے فوجی ٹربیونل میں ایک بیان دیا تھا جس میں اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ’’بزدلانہ عمل‘‘ پر شرمندہ ہے اور اس پر معافی کا طلب گار ہے۔

فوجی عدالت میں بیان دیتے ہوئے بیلز کا کہنا تھا، ’’میں صدق دل سے ان تمام خاندانوں سے معافی چاہتا ہوں جن کے عزیزوں کو میں نے ان سے چھین لیا۔ واشنگٹن میں اس عدالت میں بیان دیتے ہوئے بیلز کا مزید کہنا تھا، ’’جوقدم میں نے اٹھایا وہ بزدلانہ بھی تھا اور احمقانہ بھی۔‘‘

قندھار میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد امریکا اور افغانستان کے تعلقات بے حد خراب ہو گئے تھے۔ اس واقعے کو ویت نام کی جنگ کے بعد کسی امریکی فوجی کی طرف سے عام شہریوں کو ہلاک کرنے کا بد ترین واقعہ قرار دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں