.

افغان صدر حامد کرزئی پیر کو پاکستان کا دورہ کریں گے

دورے میں مزید طالبان رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان صدرحامد کرزئی پیر کے روز پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران مسٹر کرزئی طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے لئے اہم گرفتار طالبان رہنماؤں کی رہائی کے معاملے پر بات کریں گے۔

آئندہ برس اپریل کو افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخاب سے پہلے بارہ سالہ افغان تنازع کے خاتمے اور سن 2014 کے اواخر میں نیٹو فوج کے انخلاء کے تناظر میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

اس سال فروری کو برطانیہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے بعد دونوں ہمسایوں کے درمیان تعلقات میں بہتر ہونا شروع ہو گئے تھے تاہم بعد میں پیدا ہونے والے متعدد عوامی تنازعات کے بعد باہمی شکوک و شبہات کی خلیج وسیع ہونا شروع ہو گئی تھی۔
پاکستان میں متعین افغان سفیرعمر داؤد زئی نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ حامد کرزئی کے دورے کے دوران اسلام آباد اہم طالبان قیدیوں کو رہا کرے گا تاکہ کابل حکومت کی قیادت میں امن مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ سے شروع کیا جا سکے گا۔

افغان حکومت کی سپریم امن کونسل کے رکن محمد اسماعیل قاسم یار نے کہا کہ وہ پاکستان میں قید طالبان کے سب سے سینئر کمانڈر ملا عبدالغنی برادرکی رہائی کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا: "ہم پاکستانی جیلوں میں سیاسی وجوہات کی بنا پر قید ان طالب قیدیوں کی رہائی کی کوشش کریں گے جو امن مذاکرات کے حامی ہیں، ملا عبدالغنی برادر ان میں سے ایک ہیں۔"

یاد رہے کہ پاکستان نے گذشتہ سال دو مرحلوں میں طالبان کے سابق وزیرِ قانون نورالدین ترابی سمیت 26 طالب قییوں کو رہا کیا تھا اور افغانستان نے جنگ ختم کرنے کیلئے اس عمل کی تعریف کی تھی۔

افغانستان میں امن کی تلاش بنیادی ترجیح ہے کیونکہ بین الاقوامی فوج کے انخلا کے بعد افغان فورسز کو ہی ملک میں سرگرم باغیوں کی سرکوبی کرنا ہو گی۔

تاہم اسی سال جون میں قطر کے دارلحکومت دوحا میں طالبان دفتر کے افتتاح پر افغان صدر حامد کرزئی بہت زیادہ نالاں تھے کیونکہ ان وہ اس دفتر کو طالبان کی جلاوطن حکومت کے سفارتخانہ قرار دیتے رہے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد کرزئی نے طالبان سے امن مذاکرات ختم اور امریکا سے الگ سیکیورٹی بات چیت ختم کرنے کی دھمکی دی تھی۔

حامد کرزئی کے ساتھ مذاکرات سے طالبان مسلسل انکار کے باوجود اول الذکر کا اصرار رہا ہے کہ کسی بھی امن کوشش میں ان کا کردار اہم ہونا چاہئے۔ واضح رہے کہ طالبان کرزئی کو امریکا کا کٹھ پتلا سمجھتے ہیں۔

پاکستان کے اہم ریاستی عناصر پر طالبان کو بھاری مالی امداد کے ذریعے کنٹرول اور تحفظ فراہم کرنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے، تاہم دفتر خارجہ کا اعلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں بدامنی ختم کرنے کی ہر کوشش میں معاون رہا ہے۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسلام آباد افغانستان میں امن اور مصالحتی کوششوں سمیت دوحا مذاکرات کی بھی مکمل حمایت کرتا ہے۔

یاد رہے کہ دس برس کے دوران پہلی مرتبہ منگل کو کابل میں کھیلے جانے والے دوستی فٹبال میچ میں افغان ٹیم نے پاکستان کو تین کے مقابلے میں صفر گول سے شکست دی۔