.

ایران میں 40 افراد کو ایک ہی دن فنا کے گھاٹ اتار دیا گیا

پھانسی پانے والوں کے عزیز و اقارب سراپا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا ہے کہ حکام نے چالیس افراد کو ایک ہی دن پھانسی پر لٹکا دیا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور پھانسی پانے والے 'مجرموں' کے اقارب حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ڈیموکریٹک سینٹر برائے ایران کی جانب سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کے روز27 افراد کو اعلانیہ پھانسی پر لٹکایا گیا جبکہ کئی ملزمان کی سزائے موت پر رازداری میں عمل درآمد کیا گیا ہے، تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کر لی ہیں۔ جمعرات کے روز مجموعی طور پرچالیس افراد کو پھانسی دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق تختہ دار پر لٹکائے جانے والے ملزمان میں سے بیشتر کو اراک، مشہد، ارومیہ، کرج، ہندیجان اور اردبیل شہروں میں قائم حراستی مراکز میں رکھا گیا تھا۔ ان مجرموں کو جیلوں کے قریب پھانسی دی گئی۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ تہران حکام نے ستائیس افراد کی پھانسی کی سزا پر اعلانیہ عمل درآمد کیا، تاہم باقی کو راز داری میں قتل کیا گیا ہے۔ ان میں گیارہ ملزمان کو اراک شہر کی ایک جیل میں، پانچ کو ارومیہ اور دو کو مشہد کی جیل میں پھانسی پر لٹکایا گیا۔

ایرانی جوڈیشل کونسل کے تعلقات عامہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے پھانسی کی سزا واویلا بلاجواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات کے روز جن ملزمان کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے ان پر قتل کے الزامات ثابت ہو چکے تھے اور ملزمان نے اعتراف جرم بھی کر لیا تھا۔

کرج شہر کے ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ ملزمان کو منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں سزا دی گئی ہے۔ ان کے قبضے سے کئی من ہیروئن برآمد کی گئی تھی اور جرم ثابت ہونے پر عدالت نے انہیں موت کی سزا سنائی تھی۔

درایں اثناء ارومیہ اور دیگر شہروں میں پھانسی کی سزائیں دینے کے خلاف شہریوں نے سخت احتجاج کیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ارومیہ شہر کی سینٹرل جیل کے باہر پھانسی کے سزا یافتہ ملزمان کے سیکڑوں عزیزو اقارب اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین سخت مشتعل تھے۔ انہوں نے جیل پر پتھراؤ بھی کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا اور احتجاج کرنے والے دو افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں موجودہ نظام حکومت ملزمان کو پھانسیوں پر لٹکانے کے حوالے سے بدنامی کی حد تک مشہور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی حکومت اور اس کے عدالتی نظام پرنہ صرف عالمی سطح پر تنقید کی جاتی ہے بلکہ ایرانی اپوزیشن رہ نما برسراقتدار قیادت کو ظالمانہ اور عدالتی نظام کو غیر شفاف قرار دیتے ہیں۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت بوگس الزامات کے تحت ملزمان کو پھانسی پر لٹکا کر انسانی حقوق کی سنگین پامالی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں اور ایرانی اپوزیشن یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ تہران حکومت اپوزیشن کے سیاسی کارکنوں پربھی سنگین نوعیت کے مقدمات قائم کرکے انہیں ماورائے عدالت قتل کی مرتکب ہو رہی ہے، جس کے باعث شہری سخت خوف کا شکار ہیں۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف جرائم پیشہ افراد کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے انہیں سزائیں دیتی ہے۔ اپوزیشن کا سیاسی کارکنوں کو سزائیں دینے کا الزام بے بنیاد ہے۔