.

چک ہیگل کا شام میں امریکی فوج کی ممکنہ کارروائی کی 'تیاریوں' کا انکشاف

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے بعد طاقت کے استعمال کا مطالبہ زور پکڑ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا ہے کہ امریکی فوج شام میں ممکنہ مداخلت کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما کی طرف سے حملے کے احکامات کی صورت میں ان کے پاس متعدد آپشنز موجود ہیں۔

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کے مطابق ابھی تک ایسا کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ دمشق حکومت کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ شام کے خلاف طاقت کے استعمال کی خبریں باغیوں کے اس الزام کے بعد سامنے آنا شروع ہوئی ہیں، جس کے تحت اسد حکومت زہریلی گیس استعمال کرنے کی مرتکب ہوئی ہے۔ مبینہ طور پر اس کارروائی میں عورتوں اور بچوں سمیت 13 سو افراد مارے گئے ہیں۔

قبل ازیں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر رہنما ایلیئٹ اینجل نے امریکی صدر باراک اوباما پر زور دیا تھا کہ وہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے شواہد سامنے آنے کے بعد شام کے خلاف فضائی حملے کریں۔

امریکی ایوان نمائندگان میں خارجہ امور کی کمیٹی سے تعلق رکھنے والے ایلیئٹ اینجل کے مطابق شامی صدر بشار الاسد کی جانب سے مبینہ طور پر مخالفین کے خلاف کیمائی ہتھیاروں کا استعمال در اصل اس ’’ریڈ لائن‘‘ کو عبور کرنا ہے جو امریکی حکومت کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ شامی حکومت کے خلاف کارروائی کرے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے صدر اوباما کو لکھے گئے مسٹر اینجل کے خطے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے مراسلے میں بتایا کہ خط میں سینئر ڈیموکریٹ نے امریکی حکومت کو شام کے خلاف فضائی حملے کرنے کی درخواست کی ہے۔ اینجل لکھتے ہیں: ’’اگر ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اسد حکومت کی جانب سے خوف ناک ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد سامنے آنے کے بعد بھی کارروائی نہیں کرتے تو اس سے دنیا کی جابر حکومتوں کو غلط پیغام جائے گا۔‘‘

خیال رہے کہ شامی حکومت نے باغیوں کے اس دعوے کی تردید کی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ شامی حکومت نے مخالفین کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے بھی شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ غیر جانب دار مبصرین کے مطابق ان ہتھیاروں کے استعمال کے کئی شواہد سامنے آ رہے ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کے سيکرٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ’انسانیت کے خلاف جرم‘ کے مترادف ہے۔ بان کی مون کے مطابق شامی باغیوں کی طرف سے عائد کردہ ان الزامات کی فوری طور پر تحقیقات کی جانا چاہیے۔ ادھر امریکی حکومت نے بھی کہا ہے کہ شام میں ایسے مہلک ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے حوالے سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

شام میں صدر اسد کے مخالفین کے مطابق ملکی افواج نے دمشق کے ايک نواحی علاقے غوطہ میں بدھ کے روز ايک حملے ميں زہریلی گیس کا استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ايک ہزار سے زائد ہے۔ ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے، تاہم امریکی صدر اوباما شام کے تنازعے میں براہ راست ملوث ہونے سے گریزاں دکھائی دے رے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ امریکی عوام کو شام کے خلاف ’’مہنگی جنگ‘‘ میں الجھانا نہیں چاہتے۔


امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا، ’’امریکا ایک ایسے ملک کے طور پر اپنی پہچان برقرار رکھے گا جس سے لوگ توقع رکھتے ہیں کہ وہ محض ان کی سرحدوں کی حفاظت کے بجائے بہت کچھ کرے گا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے ہم ہر ایک مسئلے میں فوری طور پر الجھ جائیں۔‘‘