.

مشرق وسطی میں جاسوسی کے لیے برطانوی نیٹ ورک کا انکشاف

معلومات امریکا سے شئیر کی جاتی ہیں، برطانیہ کا تبصرے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ مشرق وسطی میں ایک جدید ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے جاسوسی کر رہا ہے۔ اس امر کا انکشاف امریکی مفرور جاسوس ایڈورڈ سنوڈن نے بعض دستاویزات کی بنا پر کیا ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق برطانیہ کا جاسوسی کا نیٹ ورک ایک خفیہ انٹر نیٹ ما نیٹرنگ سٹیشن کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

انٹرنیٹ سے متعلق یہ تنصیبات ایک اعشاریہ چھپن ارب ڈالر کی مالیت سے نگرانی کے لیے قائم کیے گئے برطانوی پروگرام کا حصہ ہیں، جس کے تحت سمندروں میں بچھائے گئے فائبرآپٹک سے ڈیٹا ٹیپ اور اخذ کیا جا سکتا ہے۔ ان ذرائع سے حاصل کردہ معلومات برطانوی حساس اداروں کے لیے تیار کی جاتی ہیں جو برطانوی ادارے کے ہیڈ کوارٹرز کے توسط سے امریکہ کے حوالے کی جاتی ہیں۔

دوسری جانب برطانوی حساس ادارے نے'' العربیہ'' کی جانب سے اس بارے میں موقف جاننے کی کوشش پر صاف کہا ہے کہ '' ہم انٹیلی جنس سے متعلقہ امور پر تبصرہ نہیں کرتے ۔'' تا ہم یہ معلوم ہوا ہے کہ ان اطلاعات کے سامنے آ جانے کے بعد برطانوی حکومت کو تشویش لاحق ہو گئی ہے کہ فائبر آپٹک سے جس جگہ پر ڈیٹا جاسوسی کے لیے حاصل کیا جاتا ہے کہیں وہ منظر عام پر نہ لے آئی جائے۔