بین الاقوامی این جی او نے شام میں کیمیائی گیس حملے کی تصدیق کر دی

زہریلی گیس سے متاثر مریضوں کا علاج کیا: ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں اعصاب کو ناکارہ کر دینے والی گیس نیوروٹاکسن کا استعمال کیا گیا۔

اس امر کی تصدیق عالمی طبی تنظیم ’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ نے پہلی مرتبہ کی ہے۔ ڈاکٹروں کی بین الاقوامی انجمن کے مطابق ان کے پاس مجموعی طور پر کیمیائی گیس سے متاثر 3600 مریض لائے گئے، جن میں سے 355 کو بچایا نہ جا سکا۔ اس تنظیم کے مطابق یہ متاثرین ان کے پاس اس دن لائے گئے تھے جس دن دمشق کے مضافاتی علاقے غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ شامی باغیوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے خلاف اسد حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے، جس کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت ہزاروں افراد مارے گئے۔ صدر بشار الاسد حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

ایم ایس ایف کا کہنا تھا کہ وہ نہ تو سائنسی طور پر ان ہتھیاروں کے کیمیائی ہونے کی تصدیق کر سکتے ہیں اور اور نہ اس کے ذمہ داروں کا تعین، ’’ تاہم جو مریض ہمارے پاس لائے گئے ان میں واضح طور پر نیوروٹاکسن کی علامات دیکھی جا سکتی تھیں۔‘‘

ایم ایس ایف کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قوام متحدہ کی ایک اعلیٰ اہلکار انجیلا کین شامی دارالحکومت دمشق پہنچ چکی ہیں۔ اپنے دورے کے دوران انجیلا کین شامی حکام کو قائل کرنے کی کوشش کریں گی کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے مقام تک رسائی دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں