موریتانیہ میں طلاق کے منفی رجحان سے 44 % عائلی نظام تباہ

صنف نازک بد ترین معاشرتی مظالم کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شریک حیات کو طلاق دینے کا مسموح مگر انتہائی ناپسندیدہ طرزعمل عائلی نظام کے تارو پود بکھیرنے کے لیے کافی ہے۔ افریقی مسلمان ملک موریتانیہ خطے کی واحد ریاست ہے جہاں طلاق کو ایک سماجی روایت کی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں طلاق جیسے منفی عمل کے روزمرہ کی بنیاد پر وقوع پذیر ہونے والے واقعات نے خاندانی نظام کو تباہ کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے موریتانیہ میں طلاق کے بڑھتے واقعات پر ایک رپورٹ تیار کی ہے۔ رپورٹ کے مندرجات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکیسویں صدی کے حقوق نسواں کے دور میں موریتانوی خواتین آج بھی قرون اولیٰ کے دور میں زندگی بسر کر رہی ہیں۔ طلاق کے بڑھتے رحجان نے 44 فی صد عائلی اور سماجی نظام درہم برہم کر دیا ہے، لیکن صنف نازک اس منفی طرز عمل کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ ہیں۔ یوں سمجھئے کہ موریتانوی سماج "چٹ میں شادی پٹ میں طلاق" کے اصول پر چل رہا ہے۔ عورتوں کو وقت نکاح نہ صرف نان نفقے اور رہائش جیسی کسی بنیادی سہولت کا حق نہیں دیا جاتا بلکہ خواتین کے 'حق مہر' جیسے شرعی فریضے کی ادائیگی بھی نہیں کی جاتی۔

ستم بالائے ستم یہ کہ خواتین کو طلاق کے بعد دوہرا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ طلاق کے بعد 'عرصہ عدت' گذارنے تک نان نفقہ سابقہ شوہر ہی کہ ذمہ ہونا چاہیے مورتیانیہ میں تو مطلقہ کو سابقہ شوہر کے بچوں کو بھی خود ہی پالنا پڑتا ہے۔

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موریتانیہ میں صنف نازک سے ہونے والا یہ امتیازی سلوک کسی قبائلی روایت کا نتیجہ نہیں بلکہ پورے سماج کا یہ صدیوں سے چلا آنے والا رویہ ہے۔ بیچاری خواتین شوہروں کے مظالم کے خلاف کسی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہیں اور نہ ہی کسی شاہی دربار کی زنجیر عدل ہلانے کا انہیں کوئی حق ہے۔ مردوں کا فیصلہ حتمی اور آخری ہوتا ہے اور خواتین کو چارو ناچار اسے قبول کرنا اور انہی کی مرضی پر جینا اور مرنا ہوتا ہے۔

سماجی امور کے ماہر تجزیہ نگار محمد محمود ولد الگیلانی نے بتایا کہ موریتانیہ میں طلاق کی فوری وجہ شادیوں کا آسان ہونا ہے۔ معاشرے میں خواتین کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ نکاح میں خواتین کے نان نفقے، رہائش یا بعد از طلاق ان کے اخراجات ادا کرنے کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا۔ مردوں کو دی جانے والی یہ چھوٹ طلاق کو آسان بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں عائلی نظام صدیوں سے عدم استحکام کا شکار چلا آ رہا ہے۔ ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک خواتین کو ان کے بنیادی عائلی حقوق فراہم نہیں کیے جاتے۔

مسٹر گیلانی کا کہنا تھا کہ معاشرے میں مرد و زن دونوں شادی جیسے مقدس بندھن اور اس کے عائلی زندگی پر مثبت اور منفی اثرات سے آگاہ نہیں ہوتے۔ علاوہ ازیں معاشرتی روایات ایسی ہیں جنہوں نے مردوں کو ضرورت سے زیادہ عورتوں پر 'جری' بنا دیا ہے۔ مردوں پر جب بھی کوئی خاندانی ذمہ داری آن پڑتی ہے تو وہ اسے گلو خلاصی کے لیے بیوی سے ہی جان چھڑا دیتے ہیں۔ شائد اس طرح کا طرزعمل کسی دوسرے معاشرے یا کم از کم عرب ممالک نہیں ہو گا۔ شادی سے قبل لڑکی کو اپنے مستقبل، ہونے والے شریک حیات یا اپنے حقوق کے لیے زبان کھولنے کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ عورتیں اپنا حق مہر طلب کرنے کا بھی حق نہیں رکھتیں۔ یہ حق ان سے حکومت نے نہیں بلکہ معاشرے نے چھین رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں