.

تم ہمیں مارو، ہم تمہیں ماریں گے

زمبابوے پر پابندیاں لگیں تو ہم بھی بدلہ چکائیں گے: رابرٹ موگابے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے نے اپنے ملک کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی کوششوں کوزمبانوے کے عوام کو ہراساں کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے برطانوی اور امریکی کمپنیوں کو دھمکی دی ہے کہ اب ہر چیز کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے اس امر کا اظہار ان کے انتخاب کو متنازع بنانے اور اس کی آڑ میں ان کے ملک کے خلاف پابندیوں کی کوششوں کے حوالے سے کیا ہے۔

واضح رہے کہ زمبابوے میں 31 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخاب پر مغربی ممالک کی طرف سے انگلیاں اٹھائی گئی تھیں۔ لیکن 89 سالہ موگابے نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے اعتراضات کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا تھا۔ جمعرات کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھانے والے رابرٹ موگابے 1980 میں اپنے ملک کی برطانیہ سے آزادی کے بعد سے مسلسل برسر اقتدار ہیں ۔

ائیر فورس کے ایک افسر کی تدفین کے موقع پر صدر موگابے نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ''برطانیہ اور امریکا زمبابوے کے عوام کو اب دھمکانے اور خوف زدہ کرنے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔ ہم نے ان ملکوں کی کمپنیوں کے خلاف کبھی کچھ نہیں کیا ہے، نہ ہی ان کی کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں، لیکن وقت آ رہا ہے کہ جب ہمیں کہنا ہو گا اب ادلے کا بدلہ ہو گا، تم ہمیں مارو گے تو ہم تمہیں ماریں گے۔''

زمبابوے میں برطانوی کمپنیاں جن میں تجارتی کمپنیوں کے علاوہ سٹینڈرڈ چارٹرد بنک اور بارکلے سمیت مختلف بنک بھی کام کر رہے ہیں۔ معدینات سے مالامال اس ملک میں معدینات نکالنے اور ان کی تجارت والی غیرملکی کمپنیاں بھی موجود ہیں۔