.

سعودیہ: تارکین وطن کیلیے سپانسر شپ ، بیٹیوں کے کام نہیں آئیگی

''ورک پرمٹ''، فیس بڑھانے سے سعودی شہریوں کے لیے مواقع بڑھے ہیں''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت محنت نے اعلان کیا ہے کہ سعودیہ میں ملازمت اور کام کے لیے موجود افراد کی بیٹیاں اپنے والدین کی حاصل کردہ سپانسر شپ کی بنیاد پر ملازمت نہیں کر سکیں گی۔ سعودی وزارت محنت کے اس فیصلے کے بعد طویل عرصے جاری بحث اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے کہ غیر ملکی تارکین وطن کے لیے سپانسر شپ ان کے بچوں کے لیے بھی کافی ہو گی یا نہیں؟

فیصلے کے مطابق قانونی طریقے سے سعودیہ میں موجود غیر ملکی افراد کی بیگمات اور غیرملکی خواتین کے شوہر ایک دوسرے کے نام کی سپانسر شپ سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ایسے لوگ اگر اپنی سپانسر شپ اپنے آجر کو منتقل کر دیں گے تو بھی وہ کام کر سکیں گے۔

وزارت نے واضح کیا ہے کہ سپانسر شپ کی منتقلی کی سہولت کا اطلاق بیٹوں پر ہوتا ہے، بیٹیوں پر نہیں۔ سپانسر شپ کی منتقلی سپانسر کی اجازت لیے بغیر بھی ممکن ہو سکے گی بشرطیکہ یہ منتقلی'' گرین زون'' کے لیے ہو۔

ایک سوال کے جواب میں وزارت نے بتایا کہ'' سپانسر شپ کی منسوخی موجودہ سپانسر کو کرنے کا حق ہو گا اسی طرح نئے سپانسر کو بھی منسوخی کا حق ہو گا کہ یہ سپانسر شپ گرین زون کے بجائے ''نیٹا کیٹ'' کے تحت ریڈ زون میں آ رہی ہو ۔ وزارت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی کمپنی کا مالک خود بخود ''نیٹا کیٹ پروگرام'' میں رجسٹرڈ سمجھا جائے گا بشرطیکہ وہ کسی اور کمپنی کے حوالے سے رجسٹرڈ نہ ہو۔

سعودی ''ورک پرمٹ '' کی فیس میں اضافے سے متعلق ایک سوال پر بتایا گیا'' اس کا مقصد سعودی شہریوں کے لیے نجی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ '' نیٹا کیٹ پروگرام ''کی وجہ سے پانچ لاکھ سعودی شہریوں کو روزگار فراہم ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود نئے روزگار پر پابندی عائد نہیں کی جا رہی کیونکہ نئے منصوبوں میں کارکنوں کی ضرورت مو جود ہے۔