.

سلامتی کونسل متفق ہو نہ ہو ، کارروائی کرینگے

برطانیہ و ترکی کا اعلان، 36 ممالک میں کارروائی کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ اور ترکی نے دو ٹوک کہا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے ہونے والی سینکڑوں ہلاکتوں کے واقعے کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ مشترکہ کارروائی پر متفق نہ ہوئی تو بھی دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کارروائی کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ اور ترک وزیر خارجہ نے الگ الگ کیا ہے .

برطانوی وزیر خارجہ نے ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے اپنے انٹرویو میں کہا '' یہ ممکن ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے ہونے والی ہلاکتوں کے ردعمل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اتفاق نہ ہو لیکن میں کہوں گا ہم اس کے باوجود اس ظالمانہ اور وحشیانہ جرم کا جواب دیں گے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ قابل قبول ہو سکتی ہے۔''

دریں اثناء ترکی کے وزیر خارجہ داود اوگلو نے بھی اسی موقف کا اظہار کیا اور کہا '' ہماری ہمیشہ یہ پالیسی رہی ہے کہ ہم عاامی برادری کے ساتھ مل کر چلیں، اقوام متحدہ کے فیصلوں کے ساتھ چلیں ۔ لیکن اگر ایسا فیصلہ اقوام متحدہ کی طرف سے نہ ہو سکا تو اس کے دیگر متبادلات کے ساتھ کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف ایجنڈا آگے بڑھائیں گے۔''

واضح رہے کہ اب تک تقریبا 36 ممالک سلامتی کونسل میں اتفاق نہ ہونے کی صورت میں شام کے خلاف مل کر کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ شام کے خلاف بننے والے کسی بھی اتحاد میں ترکی شامل ہونے پر آمادہ ہے۔